عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ کے اسمائے گرامی
حضرتِ مولیٰ علی مشکلکشا شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم عَشَرَۂ مُبَشَّرَہمیں سے بھی ہیں ،عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ اُن دس صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کہا جاتا ہے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زَبانِ حقِّ تَرجُمان سے خُصُوصی طور پر جنَّتی ہونے کی بِشارت دی گئی ہے۔چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، قرارِ قَلْب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابوبکر، عمر،عثمان ، علی، طلحہ، زُبیر، عبدالرحمن بن عَوف، سَعد بن ابی وقَّاص،سعیدبن زیدا ور ابو عُبَیدہ بن جَرَّاح جنَّتی ہیں ۔‘‘(رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن)(تِرْمِذِی ج۵ ص۴۱۶ حدیث ۳۷۶۸ )
وہ دَسوں جن کو جنَّت کا مُژدہ۱؎ ملا (۱؎خوشخبری)
اُس مُبارَک جماعت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش شریف)
خُلَفائے راشدِین کی فَضیلت
فقیہِ اُمّت حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالی شان ہے: ’’اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَاَبُوْبَکْرٍ اَسَاسُہَا وَعُمَرُ حِیْطَانُہَا وَعُثْمَانُ سَقْفُہَا وَعَلِیٌّ بَابُہَایعنی میں علْم کا شہر ہوں ، ابوبکْر اس کی بنیاد، عُمَر اس کی دیوار، عثمان اُس کی چھت اور علی اس کادروازہ ہیں۔‘‘
(مُسندُ الفردوس ج۱ ص۴۳ حدیث۱۰۵)