کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی شان کے بھی کیا کہنے کہ امیرُ الْمُؤْمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اُن کی قسمت پر رَشک فرماتے ہیں ،لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فضائل میں اُن سے بھی بڑھ گئے، فضائل و مراتِب کے اِعتِبار سے مسلکِ حق اَہلسنّت وجماعت کے نزدیک جو ترتیب ہے اس کابیان کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :تمام صَحابۂ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں ) سب جنَّتی ہیں ، بعدِ انبیا ومُرسَلین، تمام مخلوقاتِ الٰہی اِنْس و جِنّ و مَلک (یعنی انسانوں ، جنّوں اور فِرشتوں )سے افضل صدِّیقِ اکبر ہیں ، پھر عمر فاروقِ اعظم، پھرعثمانِ غنی، پھر مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم، جو شخص مولیٰ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو(حضرتِ سیِّدُنا) صِدّیق یا فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے افضل بتائے، گمراہ بدمذہب ہے۔خُلَفائے اَرْبَعہ راشِدین کے بعدبَقِیّہ عَشَرَۂ مُبشَّرہ و حَضْراتِ حَسَنَین و اَصْحابِ بَدْر و اصحابِ بَیعۃُ الرِّضوان (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کے لیے افضلیت ہے اور یہ سب قَطْعی جنَّتی ہیں۔ افضل کے یہ معنی ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں زیادہ عزَّت و مَنزِلت والا ہو، اِسی کو کثرتِ ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔(مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۲۴۱ تا۲۵۴ )
مصطَفٰے کے سب صَحابہ جنّتی ہیں لا جَرَم
سب سے راضی حق تعالیٰ سب پہ ہے اُس کا کرم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد