’’علی‘‘ کے 3 حُرُوف کی نسبت
سے مولا علی کے مزید 3فضائل
امیرُ الْمُؤْمِنِین، خلیفۃُ المسلمین،امام العادِلین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اِرشاد فرماتے ہیں : فاتِحِ خیبر،حیدرِکرّار،صاحبِ ذُوالفِقار حضرتِ علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو 3 ایسی فضیلتیں حاصل ہیں کہ اگر اُن میں سے ایک بھی مجھے نصیب ہو جاتی تووہ میرے نزدیک سُرخ اُونٹوں سے بھی محبوب تر ہوتی۔صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پوچھا: وہ 3 فضائل کون سے ہیں ؟ فرمایا: {1} اللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی صاحِبزادی حضرتِ فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اِن کے نِکاح میں دیا {2}اِن کی رِہائش سرکارِ اَبَدقرار،شفیعِ روزشُمار ،دوعالَم کے مالِک و مُختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں تھی اور اِن کے لئے مسجد میں وہ کچھ حلال تھا جو اِنہیں کا حصّہ ہے۔اور {3} غزوۂ خیبر میں اِن کوپرچمِ اسلام عطا فرمایا گیا ۔ (مُستَدرَک ج۴ ص۹۴ حدیث۴۶۸۹)
بہرِ تسلیمِ علی میداں میں
سر جُھکے رہتے ہیں تلواروں کے(حدائقِ بخشش شریف)
صَحابہ کی فضیلت میں ترتیب
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ!حضرت ِ سیِّدُنا مولیٰ مُشکل کُشا،علیُّ المُرتَضٰی، شیرِخدا