Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
21 - 96
جیسے صاف شَفّاف عقیدے کو چھوڑ کرٹِھیکریوں  جیسا رَدّی عقیدہ اِختیار نہ کر۔ 
عداوتِ علی 
	مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ مَحَبَّتِ علیُّ (المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)  اَصلِ اِیمان ہے۔ ہاں ! مَحَبَّت میں  ناجائز اِفراط(یعنی حد سے بڑھنا) بُرا ہے مگر عداوت ِعلی اصْل ہی سے حرام بلکہ کبھی کُفر ہے۔‘‘   		  (مراٰۃ المناجیح ج۸ص۴۲۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
علیُّ المرتَضیٰ شیرِ خدا ہیں
کہ اِن سے خوش حبیبِ کِبریا ہیں
ظاہِرو باطِن کے عالِم
	فقیہِ اُمّت حضرتِ سیِّدُناعبد اللہبن مسعو درَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : امیرُ الْمُؤْمِنِین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی،شیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایسے عالِم ہیں  جن کے پاس ظاہِر و باطِن ۱  دونوں  کا علْم ہے۔ 	      (اِبن عَساکِرج۴۲ ص۴۰۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ ؎     ظاہری مراد اِس کا لفظی ترجمہ ہے باطِنی مراد اِس کا منشاء اور مقصد یا ظاہر شریعت ہے اور باطن طریقت یا ظاہر اَحکام ہیں اور باطن اَسرار یا ظاہر وہ ہے جس پر علماء مطَّلَع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں یا ظاہر وہ جو نقْل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشْف سے معلوم ہو۔(مِراٰۃُالمناجیح ج۱ص۲۱۰)