Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
20 - 96
{۲}’’اَنَا دَارُالْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں  حکمت کا گھر ہوں  اورعلی اس کا دروازہ ہیں۔‘‘
						(تِرمذی ج۵ ص۴۰۲ حدیث۳۷۴۴)
مولٰی علی کی شان بَزَبانِ نبیِّ غیب دان
	 مولیٰ مُشکل کُشا حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم رِوایت کرتے ہیں کہ رسولِ اَکرم، نبیِّ مُحْتَشم، تاجدارِ اُمَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے (مجھے مُخاطب کرتے ہوئے) اِرشاد فرمایا: ’’تم میں ( حضرتِ) عیسیٰ( علیہ السلام )کی مثال ہے، جن سے یَہود نے بُغض رکھا حتّٰی کہ اُن کی والِدۂ ماجِدہ کوتُہمت لگائی اور اُن سے عیسائیوں  نے مَحَبّت کی تو اُنہیں  اُس دَرَجے میں  پہنچا دیا جو اُن کا نہ تھا۔‘‘ پھر شیرِخداحضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اِرشاد فرمایا: ’’میرے بارے میں  دو قسْم کے لوگ ہلاک ہوں  گے میری مَحَبّت میں  اِفراط کرنے(یعنی حد سے بڑھنے) والے مجھے اُن صفات سے بڑھائیں  گے جو مجھ میں  نہیں  ہیں  اور بُغض رکھنے والوں  کا بُغض اُنہیں  اِس پر اُبھارے گا کہ مجھے بُہتان لگائیں  گے۔‘‘ 	    (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۱ص۳۳۶حدیث۱۳۷۶)
تَفْضِیل کا جَویا نہ ہو مولا کی وِلا میں
یوں  چھوڑ کے گوہر کو نہ تُو بہرِ خَذَف جا(ذوقِ نعت)
یعنی حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی مَحَبَّت میں اِتنا نہ بڑھ کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کوشَیخَینِ کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پر فضیلت دینے لگے !ایسی بھول کر کے موتیوں