Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
19 - 96
مولٰی علی کی قراٰن فہمی
     ظاہِری وباطِنی عُلُوم پر خبردار، صاحِبِ سینۂ پُراَنوار، مولیٰ علی حیدر کرّار کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم (بطورِ تحدیثِ نعمت )فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں  قراٰنِ کریم کی ہر آیَت کے بارے میں  جانتا ہوں  کہ وہ کب اور کہاں  نازِل ہوئی۔ بے شک میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے سمجھنے والادل اور سُوال کرنے والی زَبان عطا فرمائی ہے۔ (حِلیۃُ الاولیاء ج۱ ص۱۰۸)
 تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
 دلِ مُرتَضیٰ سوزِ صِدِّیق دے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سورۂ فاتِحہ کی تفسیر
	امیرُ الْمُؤْمِنِین، مولیٰ مشکل کُشا حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اِرشادفرمایا: ’’اگر میں  چاہوں  تو ’’سُوْرَۃُ  الْفَاتِحَۃ‘‘ کی تفسیر سے 70 اُونٹ بھر دوں۔‘‘ (یعنی اُس کی تفسیر لکھتے ہوئے اِتنے رِجسٹر (Registers) تیار ہوجائیں  کہ70 اونٹوں  کا بوجھ بن جائے)					  (قوتُ القلوب ج۱ص۹۲)
شہرِ علم و حکمت کا دروازہ
	دو فرامینِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:{۱}’’اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَایعنی میں  علم کا شہر ہوں  اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔‘‘(مُستَدرَک ج۴ص۹۶ حدیث ۴۶۹۳)