غذا میں مثالی سادگی
حضرتِ سیِّدُناشُرَ حْبِیْل بن مسلم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ لوگوں کو امیر وں والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سرکہ اورزیتو ن پر گزارہ کرتے ۔ (اَلزُّہْد لِلامام اَحمد ص۱۵۵ حدیث۶۸۴)
کبھی سیدھا ہاتھ شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا
امیرُالْمُؤمِنِین،حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:جس ہاتھ سے میں نے یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کی وہ(یعنی سیدھا ہاتھ ) پھر میں نے کبھی بھی اپنی شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا۔ ( ابن ماجہ ج۱ ص۱۹۸حدیث۳۱۱)
حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے نہ توزمانۂ جاہِلیّت میں کبھی بدکاری کی اورنہ ہی اسلام قَبول کرنے کے بعد۔ (حلیۃُ الاولیاء ج۱ص۹۹)
بند کمرے میں بھی نِرالی شَرْم و حیا
حضر تِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُنا عُثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شرم و حیا کی شدّت بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ اگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی کمرے میں ہوں اوراُس کا دروازہ بھی بند ہو تب بھی نہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے اورحیا کی وجہ سے کمر سیدھی نہ کرتے تھے۔‘‘ (حِلْیۃُ الاولیاء ج ۱ ص ۹۴ حدیث ۱۵۹)
ہمیشہ روزے رکھا کرتے
امیرُالْمُؤمِنِین،حضرتِ سیِّدُناعُثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمیشہ نفلی روزے رکھتے