Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
10 - 30
اور رات کے ابتِدائی حصّے میں آرام فرماکربقیّہ رات قِیام (یعنی عبادت) کرتے تھے ۔ 
				  	(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۲ص۱۷۳)
خادم کو زحمت نہیں دیتے
	آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تو اضع (یعنی عاجزی) کا یہ حال تھا کہ رات کو تہجُّد کے لیے اٹھتے اور کوئی بیدار نہ ہواہوتا تو خود ہی وُضو کا سامان کر لیتے اور کسی کو جگا کر اس کی نیند میں خلَل انداز نہ ہوتے۔چُنانچِہ امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب رات  تہجُّد کے لیے اٹھتے تو وُضُو کا پانی خود لے لیتے تھے۔ عرض کی گئی: آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کیوں زَحْمت اٹھاتے ہیں خادم کو حکم فرما دیا کریں۔ فرمایا: نہیں رات اُن کی ہے اِس میں آرام کرتے ہیں۔ (ابنِ عَساکِر ج۳۹ص۲۳۶)
لکڑیوں کا گٹّھا اُٹھائے چلے آرہے تھے!
	  امیرُالْمُؤمِنِین،حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک موقع پرا پنے باغ  میں سے لکڑیوں کا گٹھااٹھائے چلے آرہے تھے حالانکہ کئی غلام بھی موجود تھے۔ کسی نے عرض کی: آپ نے یہ گٹھا اپنے غلام سے کیوں نہ اُٹھوالیا؟ فرمایا: اُٹھواتو سکتا تھا لیکن میں اپنے نفس کو آزمارہاہوں کہ وہ اس سے عاجِز تو نہیں یا اسے ناپسند تو نہیں کرتا!      (اَللُّمع ص۱۷۷)
میں نے تیرا کان مَروڑا تھا
	حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنیرضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ایک غلام سے فرمایا : میں نے