Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
8 - 30
معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی 107 صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’ چندے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ کامطالَعَہ کیجیے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عُثمانِ غنی کااِتِّباعِ رسول
            امیرُالْمُؤمِنِین،حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرضی اللہ تعالٰی عنہزبر دست عاشقِ رسول بلکہ عشقِ مصطَفٰے کا عملی نُمونہ تھے اپنے اقوال واَفعال میں محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتیں اور ادائیں خوب خوب اپنایا کرتے تھے ۔چُنانچِہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسجدکے دروازے پر بیٹھ کر بکری کی دستی کا گوشت منگوا یا اور کھایا اوربِغیرتازہ وُضو کئے نَماز اداکی پھر فرمایا کہ یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اِسی جگہ بیٹھ کریِہی کھایا تھا اور اِسی طرح کیا تھا۔  
			 (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج ۱ص۱۳۷ حدیث۴۴۱)
   حضرتِ سیِّدُنا عُثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک بار وُضو کرتے ہوئے مُسکرانے لگے! لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے: میں نے ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسی جگہ پر وُضو فرمانے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔
(اَیضاً ص۱۳۰حدیث۴۱۵ مُلَخّصاً)
وُضو کرکے خَنداں ہوئے شاہِ عثماں 		کہا: کیوں تَبسُّم بھلا کررہا ہوں ؟
جوابِ سُوالِ مُخاطَب دیا پھر			کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد