طریقے سے اپنے بھائی سے خیرِیَّت دریافت کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں۔‘‘۱؎ {5} ہاتھ ملانے کے دَوران دُرُود شریف پڑھئے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے {6}ہاتھ ملاتے وَقت دُرُود شریف پڑھ کر ہو سکے تو یہ دُعا بھی پڑھ لیجئے: ’’یَغفِرُ اللہُ لَنَا وَ لَکُم‘‘( یعنی اللہ تعالٰی ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے) {7}دو مسلمان ہاتھ ملانے کے دَوران جو دُعا مانگیں گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قَبول ہوگی اورہاتھ جُدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کی مغفِرت ہو جائے گی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ {8} آپس میں ہاتھ ملانے سے دُشمنی دُور ہوتی ہے{9} مسلمان کو سلام کرنے ، ہاتھ ملانے بلکہ مَحَبَّت کے ساتھ اس کا دیدار کرنے سے بھی ثواب ملتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور اُس کے دل میں عَداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎ {10}جتنی بار ملاقات ہو ہر بار ہاتھ ملا سکتے ہیں {11}آج کل بعض لوگ دونوں طرف سے ایک ہاتھ ملاتے بلکہ صرف اُنگلیاں ہی آپَس میں ٹکرا دیتے ہیں یہ سب خلافِ سنّت ہے{12} ہاتھ ملانے کے بعد خود اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے۔۳؎ (ہاتھ ملانے کے بعد اپنا ہی ہاتھ چوم لینے والے اسلامی بھائی اپنی عادت نکالیں )ہاں اگر کسی بُزُرگ سے ہاتھ ملانے کے بعد حُصولِ بَرَکت
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎ اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ ص ۳۸۰حدیث ۷۶۷۲ ۔ ۲؎ ایضاًج۶ص۱۳۱حدیث ۸۲۵۱۔۳؎ بہارِ شریعت ج۳ص۴۷۲