کر لوگوں سے کہا کہ یقینا یہ فرشتوں کاگروہ تھا۔ (کراماتِ صحابہ ص۹۹، شَوا ہِدُ النُّبُوَّ ۃص۲۰۹مُلَخَّصاً )
رُک جائیں مِرے کام حسنؔ ہو نہیں سکتا
فیضان مددگار ہے عثمانِ غنی کا
(ذوقِ نعت)
گستاخ کو دَرِندے نے پھاڑ ڈالا
منقول ہے کہ حاجیوں کا ایک قافِلہ مدینۃُ المنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً حاضر ہوا۔ تمام اہلِ قافِلہ حضر تِ امیرُ المومنین سیِّدناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ پُر انوار کے دیدار کے لئے گئے لیکن ایک گستاخ تو ہین و اِہانت کے طور پر زیارت کے لئے نہیں گیا اوریوں بہانہ بنایاکہ مزار بَہُت دُور ہے۔ قافِلہ جب اپنے وطن کو واپَس آرہا تھاتو را ستے میں ایک خوفناک دَرِندہ غُرّ اتا ہوا اُس گستاخ پر حملہ آور ہوا اور اُس نے اُسے چِیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ! یہ لرزہ خیز منظر دیکھ کر تمام اہلِ قافِلہ نے بَیک زَبان کہا کہ یہ حضر تِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی گستاخی کا انجام ہے۔ (شَوا ہِدُ النُّبُوَّ ۃ ، ص۲۱۰)
بیمار ہے جس کو نہیں آزارِ مَحبَّت
اچَّھا ہے جو بیمار ہے عُثمانِ غنی کا
(ذوقِ نعت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتنے بُلند پایہ صَحابی ہیں۔ یہاں کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف مزارِ پُر انوار کے دیدار کیلئے نہ جانے کی وجہ سے وہ شخص ہلاک ہوا، بلکہ بات یہ تھی کہ وہ حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا گستاخ تھا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دل میں دشمنی رکھنے کی وجہ سے حاضِر نہ ہوا تھا۔