عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے دن میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ کوئی بُلند آواز سے کہہ رہاہے:اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِرَوْحٍ وَّرَیْحَانٍ وَّبِرَبِّ غَیْرِ غَضْبَانَ ط اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِغُفْرَانَ وَرِضْوَان۔(یعنی حضر ت عثما ن بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو راحت اور خوشبو کی خوش خبری دو اور نا راض نہ ہو نے والے رب عَزَّ وَجَلَّ کی ملا قات کی خبرِ فرحت آثار دو اور خدا عَزَّ وَجَلَّ کے غُفران و رِضوان (یعنی بخشش و رضا) کی بھی بشارت دو) حضرت سیِّدُنا عَد ی بن حا تم رضی اللہ تعالٰی عنہ فر ماتے ہیں کہ میں اس آواز کو سن کر اِدھر اُدھر نظر دوڑانے لگا ااور پیچھے مڑ کر بھی دیکھا مگرمجھے کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ ( ابن عَساکِر ج۳۷ص۳۵۵،شَوا ہِدُ النُّبُوَّ ۃ،ص۲۰۹)
اللہُ غنی حد نہیں انعام و عطا کی
وہ فیض پہ دربار ہے عُثمانِ غنی کا
(ذوقِ نعت)
مَد فن میں فِر شتوں کا ہُجُو م
روایت ہے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جنازۂ مبارَکہ چند جاں نثار رات کی تاریکی میں اُٹھا کر جنّتُ البقیع پہنچے ،ابھی قبرشریف کھود رہے تھے کہ اچانک سُواروں کی ایک بَہُت بڑی تعداد جنَّتُ البقیع میں داخِل ہوئی اِن کو دیکھ کر یہ حضرات خوفزدہ ہو گئے ۔سُواروں نے بآوازِ بلند کہا : آپ حضرات بالکل مت ڈریئے ہم بھی ان کی تدفین میں شر کت کے لئے حاضِر ہوئے ہیں۔ یہ آواز سن کرلو گوں کا خوف دُور ہو گیا اور اطمینا ن کے ساتھ حضرتِ سیِّدنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تدفین کی گئی ۔ قبرِستان سے لوٹ کر ان صَحابیوں (عَلَيهِمُ الّرِضْوَان) نے قسم کھا