Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
23 - 30
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
  اپنے مَدْفن کی خبر دیدی! 
         حضر تِ سیِّدُ نا امام مالِک علیہ رحمۃ اللہِ الملک فرماتے ہیں کہ امیرُ المؤمنین حضر ت سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک مر تبہمدینۃُ الْمنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے قبرِستان ’’جنَّتُ البقیع‘‘ کے اُس حصّے میں تشریف لے گئے جو’’حَشِّ کَوْکَب ‘‘ کہلاتا تھا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہا ں ایک جگہ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’ عنقریب یہا ں ایک شخص دفْن کیا جائے گا۔‘‘چُنانچِہ اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہا دت ہو گئی اور باغیو ں نے جنازہ ٔمبارَکہ کے ساتھ اس قَدَر اُودھم بازی کی کہ نہ روضۂ منوَّ رہ کے قریب دَفْن کیا جا سکا نہ جنَّتُ البقیع کے اُس حصّے میں مدفون کئے جاسکے جو صَحا بۂ کِبار (یعنی بڑے صحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان) کا قبرستان تھا بلکہ سب سے دُور الگ تھلگ ’’حَشِّ کَوْکَب ‘‘ میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ سپر دِ خا ک کئے گئے جہا ں کو ئی سو چ بھی نہیں سکتا تھا کیو نکہ اُس وقت تک وہا ں کوئی قبر ہی نہ تھی ۔       (کراماتِ صحابہ ص۹۶،  الرِّیا ضُ النَّضرۃ ،ج ۳ ص۴۱وغیرہ)
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
محبوبِ خدا یار ہے عثمانِ غنی کا
(ذوقِ نعت)
شہاد ت کے بعد غیبی آواز 
         حضر تِ سیِّدُنا عَدی بن حا تم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے: حضر تِ سیِّدُنا امیرُ المؤ منین