Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
22 - 30
پارہ18سورۃ النور  آیت نمبر30میںاللہُ ربُّ العِبادکاارشادِ عافیت بنیاد ہے:
قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصٰرِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾

ترجَمۂ کنز الایمان:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شَرْمْ گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بَہُت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔
کرامت کی تعریف
      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا امیر المؤ منین حضر ت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنھ صاحبِ کرامت صَحابی تھے، جبھی توآپ رضی اللہ تعالٰی عنھ نے اُس شخص کو بدنِگاہی پر تَنبیہہ فرمائی۔کرامت کیاہے؟اِس بارے میںبلکہ اِرْہاص ، مَعُونَت ، اِستِدْراج اور اِہانت کی بھی تعریفات سمجھ لیجئے چنانچِہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ58پر لکھا ہے : ’’نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نُبُوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اُسے مَعُونت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کُفّار سے جو اُن کے مُوافِق ظاہر ہو، اُس کو اِستِدْراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہِر ہو تو اِہانت ہے۔‘‘
عُلوئے شان کا کیوں کر بیاں ہو اے مرے پیارے
حیا کرتی ہے تیری تو شہا مخلوقِ نورانی