آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سیِّدُ ناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اہلِ بصیرت اور صاحبِ باطن تھے لہٰذا آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی نگاہِ کرامت سے اُس شخص کی آنکھوں سے کی جانے والی معصیت مُلاحَظہ فرما لی اور اُس کی آنکھوں کو زِنا کار قرار دیا۔ بے شک اَجنَبِیَّہ یعنی نا مَحْرَمَہ کہ جس سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو اُس کی طرف بِلا اجازتِ شَرْعی نظر کرنا بَہُت بڑی جُرأَت ہے۔ منقول ہے: ’’جو شخص شَہْوت سے کسی اَجْنَبِیَّہ کے حُسن وجمال کو دیکھے گا قِیامت کے دن اسکی آنکھوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالاجائے گا۔‘‘
(ہدایہ ج ۴ ص۳۶۸ )
مختلف اعضاء کا زنا
مکّے مدینے کے تاجدار،محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’آنکھوں کا زِنا دیکھنا ، کانوں کا زِنا سُننا، زَبان کا زِنا بولنا ، ہاتھوں کا زِنا پکڑنا اورپاؤں کا زنا جاناہے۔‘‘ ( مُسلِم ص۱۴۲۸ حدیث ۲۱۔ (۲۶۵۷))مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی اِس حدیثِ پاک کے تَحْت فر ما تے ہیں : آنکھوں کا زِنا بدنگاہی،کانوں کازِناحرام وفحش باتوں کا سننا ، زَبان کا زِنا حرام وبے حیائی کی گفتگو اور پاؤں کازِنا برُے کام کی طرف جاناہے۔ (اشعۃ اللّمعات ج۱ ص ۱۰۰)