Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
19 - 30
 ایمان پر خاتمہ کیونکہ شہادت کے لیے اسلام پر موت ضروری ہے، یہ ہے حضورِ انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا علمِ غیب۔ 		               ( مُلَخَّص ازمراٰۃ ج ۸ ص۴۰۳)   
جس  آئینے میں نورِ الٰہی نظر آئے
وہ آئینہ رُخسار ہے عثمانِ غنی کا

(ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بد نگاہی کا معلوم ہو گیا
    حضرتِ علّامہ تاجُ الدّین سُبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی اپنی کتاب’’ طَبقات ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے سرِ راہ کسی عو رت کو غَلَط نگاہوں سے دیکھا پھر جب وہ امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُ نا عثمانِ غنی  رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خد متِ باعَظَمت  میں حاضِر ہو اتو حضر تِ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہا یت ہی پُر جلال لہجے میں فر مایا: تم لو گ ایسی حالت میں میرے سامنے آتے ہو کہ تمہاری آنکھوں میں زِنا کے اثرات ہو تے ہیں ! اُس شخص نے کہا کہ کیا یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعداب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر وحی اُتر نے لگی ہے ؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میری آنکھو ں میں زِنا کے اثرات ہیں ؟ ارشا د فر مایا : ’’مجھ پروحی تو نازِل نہیں ہو تی لیکن میں نے جو کچھ کہا بالکل سچی بات ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ ربُّ العزّت عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے ایسی فِراست (نورانی بصیرت )عنایت فر مائی ہے جس سے میں لوگوں کے دِلوں کے حالات و خیا لات جان لیتا ہوں۔‘‘   (طَبَقاتُ الشّافِعِیّۃ الکُبرٰی لِلسُّبْکِی ج۲ ص۳۲۷وغیرہ)