Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
18 - 30
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دیکھا!شیخینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما کا گستاخ بندر بن گیا۔کسی کسی کو اس طرح دُنیا میں بھی سزادے کر لوگوں کے لیے عبرت کا نُمُونہ بنا دیاجاتا ہے تاکہ لو گ ڈریں ،گناہوں اور گستاخیوں سے با ز آئیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم کو صَحا بۂ کرام ا ور اہلبیتِ عِظام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے مَحَبّت کرنے والوں میں رکھے ۔
ہم کو اصحابِ نبی سے پیار ہے		اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنا بیڑا پار ہے
ہم کو اہلبیت سے بھی پیار ہے		اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنا بیڑا پار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایمان پر خاتِمہ
	حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک فتنے کا ذِکر کیا اور حضرت ِعثمان کے لیے فرمایا کہ یہ اُس میں ظلماً شہید کر دیئے جائیں گے۔
 ( تِرمِذی ج۵ص۳۹۵ حدیث۳۷۲۸)
     مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الْاُمَّت، حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث ِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں : اس ارشاد میں چند غیبی خبریں ہیں حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے انتِقال کی تاریخ ،آپ کی وفات کی جگہ، آپ کی وفات کی نوعیت کہ شہید ہو کر ہوگی آپ کا