تو نوش فرمالیا مگرمدینۃُ المنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں مسلمانوں کا خون بہنا پسند نہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مکانِ عالیشان کا مُحاصَرہ ہوا اور پانی بند کر دیا گیا۔ جاں نثاروں نے دولت خانے پر حاضِر ہوکر بَلوائیوں سے مقابلے کی اجازت چاہی مگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اجازت دینے سے انکار فرما دیااورجب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام ہتھیاروں سے لیس ہو کر اجازت کے لئے حاضر ہوئے تو فرمایا : اگر تم لوگ میری خوشنودی چاہتے ہو تو ہتھیار کھول دو اور سُنو! تم میں سے جو بھی غلام ہتھیار کھول دے گا میں نے اُس کو آزاد کیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! خون ریزی سے پہلے میرا قَتْل ہو جانا مجھے زیادہ مَحْبوب ہے بمقابلہ اِس کے کہ میں خون ریزی کے بعد قتل کیا جاؤں ۱؎ یعنی میری شہادت لکھ دی گئی ہے اور نبیِّ غیب دان ، رسولِ ذِیشان، مَحْبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے اِس کی بشارت دے دی ہے ۔ حضرت ِسیِّدُنا عُثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے غلاموں سے فرمایا:’’ اگر تم نے جنگ کی پھر بھی میری شہادت ہوکر رہے گی۔‘‘ (تحفۂ ا ثنا عشریہ ص۳۲۷)
جو دل کو ضِیاء دے جو مقدّر کو جِلا دے
وہ جلوۂ دیدار ہے عثمانِ غنی کا
حسَنَینِ کریْمَیْن نے پَہرا دیا
مولائے کائنات،مولا مشکِلکُشا، شیرِ خدا ،علیُّ الْمُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ، الْکَرِیْم
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ ؎ نِھایۃُ الارَب فِی فُنونِ الادب لِلنّویری ج۳ص۷