حضرتِ سیِّدناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بے حدمَحبَّت کرتے تھے۔ حالات کی نازُکی دیکھ کر آپ نے اپنے دونوں شہزادوں حَسَنَینِ کریْمَیْن یعنی امامِ حسن و حُسین رضی اللہ تعالٰی عنہما سے فرمایا:’’ تم دونوں اپنی اپنی تلواریں لے کر حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دروازے پر جاؤ اور پہرا دو۔قَضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ جب غالِب آئی حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت ہوئی تو حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰیَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ، الْکَرِیْم کو سخت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَپڑھا ۔
خدا بھی اور نبی بھی خو د علی بھی اُس سے ہیں ناراض
عَدُو اُن کا اُٹھائے گا قِیامت میں پریشانی
(وسائل بخشش ص۴۹۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
گستاخ بندر بن گیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے بُغض و عداوت رکھنا دارَین (یعنی دُنیا و آخِرت) میں نقصان و خُسران کا سبب ہے چُنانچِہ حضرت عارِف باللہ سیِّدُ نانو رُالدّین عبدُ الرَّحْمٰن جا می قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی اپنی مشہو ر کتاب ’’شَوا ہِدُ النُّبُوَّ ۃ‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں 3 اَفراد یَمَن کے سفر پر نکلے ان میں ایک کُو فی (یعنی کوفے کا رہنے والا ) تھاجو شَیخَینِ کر یمین ( حضرتِ سیِّدنا ابو بکر صدّیق اورحضر تِ سیِّدُنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما) کا گستاخ تھا،اُسے سمجھایا گیا لیکن وہ باز نہ آیا۔ جب یہ تینوں یمن کے قریب پہنچے تو ایک جگہ قِیام کیا اور سوگئے۔جب