Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
13 - 30
 کر فر مایا: اے عبد اللہ بن سلام(رضی اللہ تعالٰی عنہ)! میں نے آج رات تاجدارِ دو جہان، رَحْمت عالمیان، مدینے کے سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اِس روشن دان میں دیکھا، سلطانِ زمانہ، رسولِ یگانہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِنتِہائی مُشفِقانہ لہجے میں اِرشاد فر مایا:’’ اے عثمان  (رضی اللہ تعالٰی عنہ) !ان لوگوں نے پا نی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے ؟‘‘ میں نے عر ض کی:جی ہا ں۔تو فو راً ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک ڈَول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں اُس سے سیراب ہوا اور اب اِس وَقْت بھی اُس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھا تیو ں اور دونوں کندھو ں کے درمیا ن محسو س کررہاہوں۔ پھر حُضُو رِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم، شا فِعِ اُمَم، سراپا جو دُو کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا: اِنْ شِئْتَ نُصِرْتَ عَلَیْہِمْ وَاِنْ شِئْتَ اَفْطَرْتَ عِنْدَنَا ’’ یعنی اگر تمہا ری خو اہِش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہا ری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہما رے پا س آکر روزہ افطارکر و۔‘‘ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربارِ پرُ انوار میں حا ضر ہو کر روزہ افطار کر نا مجھے زیا دہ عزیز ہے ۔ حضر ت سیِّدُنا عبدُاللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اُسی روز باغیوں نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو شہید کر دیا۔
( کتابُ المنامات مع موسوعۃالامام ابن ابی الدنیاج۳ص۷۴رقم ۱۰۹)
         حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقْل کرتے ہیں کہ حضرتِ علّامہ ابنِ باطِیش رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ ( مُتَوَفّٰی655ہجری )اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ (سرکار صَلَّی اللہُ