Brailvi Books

کراماتِ عثمان غنی
12 - 30
بجائے جہنَّم میں جانے کا حکم دے دیاجائے! لہٰذا عذابِ دوزخ کے ڈر کے سبب راکھ ہو جانے کی پسند کا اظہار فرمایا۔
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طَیبہ کی
مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا
(وسائلِ بخشش ص۲۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	آخِرت کی فِکْر دل میں نور پیدا کرتی ہے
	حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :دنیا کی فکر دل میں اندھیرا جب کہ آخِرت کی فکرنور پیدا کرتی ہے۔ 		      (اَلمُنَبّھات ص۴)
عُثمانِ غنی پر کرم
       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مکّے مدینے کے سلطان،رَحْمتِ عالمیان ، مَحْبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جامِعُ القرآن،حضرت سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ پر بے حد و بے انتہا مہربان تھے،اس ضِمْن میں ایک واقِعہ مُلاحَظہ فرمائیے چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جن دِنوں باغیو ں نے حضرتِ سیِّدُنا عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ  کے مکا نِ رَفیعُ الشّان کامُحاصَرہ کیاہوا تھا، اُن کے گھر میں پا نی کی ایک بوند تک نہیں جانے دی جا رہی تھی اور حضرتِ سیِّدُناعثما نِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ پیا س کی شِدّت سے تڑپتے رہتے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حا ضِر ہو ا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  اُس دن روزہ دار تھے۔ مجھ کو دیکھ