ایک مرتبہ تیرا کان مَروڑا تھا اِس لئے تو مجھ سے اُس کا بدلہ لے لے۔
(الرِّیا ضُ النَّضرۃ،ج ۳ ص۴۵)
قَبر دیکھ کر سیِّدُ نا عثمانِ غنی گریہ وزاری فرماتے
امیرُالْمُؤمِنِین ، جامعُ القراٰن ،حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رضی اللہ تعالٰی عنہ قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود بھی قَبْر کی زِیارت کے موقع پر آنسو روک نہ سکتے تھے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ695صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’ اللہ والوں کی باتیں ‘‘ (جلد اوّل) کیصَفحَہ 139پر ہے:امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی قَبْر کے پاس کھڑے ہوتے تواِس قَدَر روتے کہ آنسوؤں سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رِیش(یعنی داڑھی) مبارَک تَر ہو جاتی۔ ( تِرمِذی ج۴ ص۱۳۸ حدیث ۲۳۱۵)
...... تو میں یہ پسند کروں گا کہ راکھ ہوجاؤں
حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:’’ اگرمجھے جنّت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے لیکن مجھے یہ نہ پتاہو کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہو گا تو میں یہ پسند کروں گاکہ راکھ ہوجاؤں ، اس سے پہلے کہ مجھے کسی طرف جانے کا حکم دیا جائے۔‘‘
(اَلزُّہْد لِلامام اَحمد ص۱۵۵حدیث۶۸۶)
قَطْعی جنّتی ہونے کے باوُجُود آپ نے خوفِ خدا سے مغلوب ہو کر یہ فرمایا ہے۔ اِس ارشاد میں اللہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر سے خوف کا اظہار ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ مجھے جنّت کے