ایصالِ ثواب کانذرانہ پیش کرتارہوں گا‘‘اِتنا کہنے کے بعدپھر دُرُود شریف پڑھنے میں مصروف ہو گئے مگرقدرت کوکچھ اورہی منظورتھا، عمربھائی نے جونہی موڑمڑناچاہاموٹرسائیکل قابومیں نہ رکھ سکے اور موٹرسائیکل زورداردھماکے کے ساتھ سامنے مسافر خانے سے جا ٹکرائی ۔ عمربھائی نے بلندآوازسے کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) پڑھا اور ان کی گردن ایک جانب جُھک گئی ۔ مجھے گردن اور سر پر چوٹ آئی، مَیں نے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیرجونہی اپنے چھوٹے بھائی محمد عمر ریاض عطاری کو اُٹھایاتو مسافرخانے سے ٹکراجانے کی وجہ سے ان کے سر سے خون کافوارہ اُبل پڑاجبکہ ان کی روح تو پہلے ہی پروازکرچکی تھی ۔یہ واقعہ دوپہرکی چلچلاتی دھوپ کے وقت پیش آیامگرایمبولینس کے ذریعے جونہی عمربھائی کی میت گھرپہنچی حیرت انگیزطور پرمَطْلَع اَبر آلود ہوگیا اور ہلکی ہلکی پُھوار برسنے لگی ،اورتین دن تک مَوسِم اسی طرح ٹھنڈا رہا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد