Brailvi Books

کفن کی سلامتی
19 - 33
شروع کردیتے ۔ بار بار اصرار کرتے کہ’’ مجھے باہر لے چلو میں علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کروں گا‘‘۔ چوتھے روز سیِّد نور عطاری نیبلند آواز سیکَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھااور ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کرگئی۔
	جنازے  میں ہزاروں اسلامی بھائی شریک ہوئے ،تدفین کے وقت ان کے سر پر سبزسبز عمامہ شریف سجانے کے ساتھ ساتھ چہرے پر خاکِ مدینہ مَل دی گئی اور آنکھوں پر مدینے شریف کی کھجوروں کی گٹھلیاں رکھی گئیں۔اور بعدِ تدفین قبر کے گرداسلامی بھائی حلقہ بناکرکافی دیر تک اجتماعِ ذکرونعت کرتے رہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

دُ نیا سے زیا دہ وسیع اور اچھا رِزْق
	حیدرآباد دکن(ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے مرحوم کو خواب میں دیکھا کہ سَیِّد نور عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کی قبر سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہیں اور قبر حدِ نگاہ تک وسیع ہے ،مرحوم مسکراتے ہوئے فرمارہے ہیں :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ