Brailvi Books

کفن کی سلامتی
18 - 33
 سیروتفریح کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ایک دن اچانک ان کی ملاقات ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوگئی، مبلّغِ دعوتِ اسلامی کی پُرتاثیر انفرادی کوشش کی بَرَکت سے وہ امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے مرید ہوکر ’’عطاری‘‘ بن گئے۔ امیرِاہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے مریدتوکیاہوئے ان کی قسمت ہی سنورگئی،اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ فرائض و واجبات کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ سنن و مستحبات پر بھی کاربند نظرآنے لگے ۔سارا دن سبزسبز عمامہ سر پر سجائے رہتے ۔
	جمادی الاخری۱۴۲۷ھ /جولائی 2006 ء میں ایک بُزُرگ کے مزارپر حاضری دے کر واپس آ رہے تھے کہ گاڑی کا حادِثہ ہوگیا ،سیِّد نور عطاری شدید زخمی ہوگئے ،نہ صرف پاؤں کی ہڈی 3جگہ سے بُری طرح کُچلی جاچکی تھی بلکہ زبان بھی زخمی ہوگئی۔فی الفورانہیں قریبی ہسپتال میں داخل کرادیاگیا،جہاں 4دن زیرِعلاج رہے، ساتھ رہنے والے اسلامی بھائیوں کابیان ہے کہ ان کی زبان پر مسلسل دُرُودِ پاک’’ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللہ  وَعلٰی اٰلک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ‘‘جاری رہتا. جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا وُضو کیلئے فرمانا