اِنْتِقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر عِلْم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسُولِ مقبول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم اسی کا حُکْم اِرشاد فرماتے ۔
(تَفسِیرکَبِیر ج۱ ص۴۱۰ داراحیاء التراث العربی بیروت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سے رکشا اسٹینڈ کاچوکیداروہاں سے اُٹھ کر علم دین کی مجلس میں آگیااور اسی بابَرَکت محفل میں سابقہ گناہوں سے تائب ہوکردُنیائے ناپائیدارسے عالَمِ جاودانی کی طرف رخصت ہو گیا ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{5}نیکی کی دعوت کاشیدائی
وٹے پلی فاطمہ نگر( حیدرآباد دکن ،ہند) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ سَیِّد نور عطاری (عمرتقریباً 25سال)تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے اِنتہائی ماڈرن نوجوان تھے۔ نت نئے فیشن اپنانا اور دوستوں کے ساتھ