Brailvi Books

کفن کی سلامتی
16 - 33
 آوازسے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہپڑھااوربے اختیار زمین پرگرپڑے۔ ایک اسلامی بھائی نے لپک کرجونہی اُٹھایاتوان کی روح قفسِ عُنصری سے پروازکر چکی تھی ۔
	درس میں شریک اسلامی بھائی ’’راجوبھائی ‘‘کی وفات پررشک کررہے تھے کیونکہحضرتِ سیِّدُناامام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ اللہ الھادِی اپنی مایہ ناز تفسیر ’’تفسیر کبیر ‘‘میں اس آیت وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّھَا(پ۱ البقرۃ ۳۱)(ترجَمۂ کنزالایمان :اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھائے )کے تحت لکھتے ہیں : سرکارِ دوعالَم ، نورِ مُجَسَّم  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم ایک صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اِس صحابی کی زندگی کی ایک ساعَت (یعنی گھنٹہ بھر زندگی) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عَصْر کا تھا ۔ رحمت ِ عالم  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلَّمنے جب یہ بات اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہکو بتائی تو انہوں نے مُضْطَرِب ہوکر اِلْتِجا کی : ’’یارسُول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم ! مجھے ایسے عَمَل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا :’’علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجاؤ!‘‘ چُنانچِہ وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا