Brailvi Books

جوشِ ایمانی
21 - 24
کرے اورجو اُسے محروم کرے یہ اُسے عطا کرے اورجو اُس سے قَطعِ تَعلُّق کرے یہ اُس سے ناطہ    (یعنی تعلُّق)    جوڑے   (اَلْمُستَدرَک ج۳ ص۱۲حدیث ۳۲۱۵)   ٭حضرتِ سیِّدُنا فقیہابواللَّیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں ،      صِلَۂ رِحْمی کرنے کے 10 فائدے ہیں :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا حاصل ہوتی ہے ،     لوگوں کی خوشی کا سبب ہے،     فِرِشتوں کو  مَسَرّت ہو تی ہے،    مسلمانوں کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے،     شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے،     عُمربڑھتی ہے،    رِزْق میں برکت ہو تی ہے،     فوت ہوجانے والے آباء و اجداد   (یعنی مسلمان باپ دادا)    خوش ہوتے ہیں ،     آپس میں مَحَبَّتبڑھتی ہے،    وفات کے بعداس کے ثواب میں اِضافہ ہو جا تا ہے،    کیونکہ لوگ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں    (تَنبیہُ الغافِلین ص۷۳)    ٭دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1196 صَفحات پر مشتمل کتاب ،     ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد3 صَفْحَہ 558تا560پرہے:صِلَۂ رِحْمکے معنیٰ رِشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سُلوک کرنا۔  ساری اُمّت کا اس پر اتِّفاق ہے کہصِلَۂ رِحْم  ’’ واجِب ‘‘ ہے اور قَطْعِ رِحم   (یعنی رشتہ توڑنا)     ’’ حرام‘‘ ہے۔  جن رشتے والوں کے ساتھ صِلَۂ    (رِحْم)    واجِب ہے وہ کون ہیں ؟  بعض عُلَما نے فرمایا:  وہ ذُو رِحْم مَحرم ہیں اور بعض نے فرمایا:  اس سے مراد ذُو رِحْم ہیں ،    مَحرم ہوں یا نہ ہوں ۔   اور ظاہِر یہی قولِ دُوُم ہے،     احادیث میں مُطلَقاً    (یعنی بِغیر کسی قید کے )   رشتے والوں کے ساتھ صِلہ   (یعنی سُلوک )     کرنے کا حُکْم آتا ہے،     قرآنِ مجید میں مُطْلَقاً     (یعنی بِلا قید)    ذوِی القُربیٰ     (یعنی قَرابَت والے)    فرمایا گیا مگر