یہ بات ضَرور ہے کہ رِشتے میں چُونکہ مختلف دَرَجات ہیں (اِسی طرح) صِلَۂ رِحْم (یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سُلوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوُت (یعنی فرق) ہوتا ہے۔ والِدَین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے، ان کے بعد ذُورِحْم مَحرم کا، ( یعنی وہ رشتے دار جن سے نَسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کیلئے حرام ہو ) ان کے بعد بَقِیَّہ رشتے والوں کا علیٰ قَدَر ِمَراتِب۔ (یعنی رشتے میں نزدیکی کی ترتیب کے مطابِق) (رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۶۷۸) ٭صِلَۂ رِحْمی (یعنی رِشتے داروں کے ساتھ سُلوک) کی مختلف صورَتیں ہیں ، اِن کو ہَدِیّہ و تحفہ دینا اور اگر ان کو کسی بات میں تمہاری اِعانَت (یعنی امداد) درکار ہو تو اِس کا م میں ان کی مدد کرنا، انہیں سلام کرنا، ان کی ملاقات کو جانا، ان کے پاس اُٹھنا بیٹھنا، ان سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ لُطف و مہربانی سے پیش آنا (دُرَر ج۱ ص۳۲۳ ) ٭اگر یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتے والوں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط وکِتابت جاری رکھے تاکہ بے تعلُّقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہوسکے تو وطن آئے اور رشتے داروں سے تعلُّقات تازہ کرلے، اِس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں اِضافہ ہوگا۔ (رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۶۷۸) ( فون یا انٹرنیٹ کے ذَرِیعے بھی رابِطے کی ترکیب مُفید ہے) ٭ صِلَہ ٔرِحْمی (رشتے داروں کے ساتھ اچّھا سُلوک ) اِسی کا نام نہیں کہ وہ سُلوک کرے تو تم بھی کرو، یہ چیز تو حقیقت میں مُکافاۃ یعنی اَدلا بَدلا کرنا ہے کہ اُس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اُس کے پاس بھیج دی، وہ تمہارے یہاں آیا تم اُس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صِلَۂ رِحْم (یعنی کامِل دَرَجے کا صِلَۂ رِحْم ) یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو، وہ تم سے جُدا ہونا چاہتا ہے،