Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
109 - 180
اما کلام الشیخ عبدالحلیم فاقول: اولا لیس الوجوب للاحتیاط وجوب الشیئ فی نفسہ ولا شک ان ترک مالابأس بہ حذرامما بہ باس من قبیل الاحتیاط فی الدین ولا یحصل ذٰلک الا بماذکر فکان من واجباتہ اذ الواجب للشیئ ھو الذی لاتحصل لہ الابہ وثانیاً ربما یطلق الواجب عرفا علی المندوب ومنہ قول الدر لاباس بہ ای بالتکبیر عقب العید لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۲؎ اھ
رہا فاضل عبدالحلیم رومی کا کلام اقول: اولاًحصول احتیاط کیلئے کسی شیئ کا وجوب اس کا فی نفسہٖ وجوب نہیں اور شک نہیں کہ خرابی کے ڈر سے جس چیز میں خرابی نہیں اسے چھوڑنا دین میں احتیاط کے قبیل سے ہے اور یہ اسی طور پر حاصل ہوگا جو انہوں نے ذکر کیا احتیاط کے واجبات سے ہو اکہ کسی شے کے لئے واجب وہی ہے جس کے بغیر شے حاصل نہ ہو، ثانیا اکثر عرف میں مستحب کو واجب کہتے ہیں اوراسی میں سے ہے درمختار کا  یہ قول کہ نماز عید کے بعد تکبیر کہنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ یہ مسلمانوں میں سلف سے چلاآتا ہے تو ان کی پیروی واجب ہوئی انتہی،
(۲؎ درمختار     باب العیدین     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۱۷)
ونظرلہ الشامی فی موضع اٰخر بقولھم حقک واجب علی وفی کتاب ادب القاضی من الفتح تحت قولہ''ویشھد ( ای القاضی) الجنازۃ ویعود المریض'' ذکر حدیث البخاری فی الادب المفرد عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یقول ان للمسلم علی اخیہ ست خصال واجبۃ ان ترک شیئا منھا فقد ترک حقا واجبا علیہ لاخیہ یسلم علیہ اذا لقیہ ویجبیہ اذا دعاہ ویشمتہ اذاعطس ویعودہ اذامرض ویحضرہ اذا مات وینصحہ اذااستنصحہ ثم قال ولا بدمن حمل الوجوب فیہ علی الاعم من الوجوب فی اصطلاح الفقہ الحادث فان ظاہرہ وجوب الابتداء بالسلام وکون الوجوب وجوب عین فی الجنازۃ فالمراد بہ امر ثابت علیہ اعم من ان یکون ندبا او وجوبا بالاصطلاح اھ ۱؎ ولا بدمن الحمل علیہ لما اقمنا من الادلۃ وان ابیت الاحملہ علی ظاہرہ فھذا فھم من الشیخ عبدالحلیم لم یستند فیہ لنقل وفہمہ غیر حجۃ فی الشرع لاسیما عند قیام البراھین علٰی خلافہ،
اور شامی نے دوسری جگہ اس کی ایک نظیر یہ بیان کی کہ عر ف میں کہتے ہیں تیراحق مجھ پر واجب ہے اور فتح القدیر کی کتاب ادب القاضی میں اس قول ماتن کے نیچے کہ قاضی جنازہ پر حاضر ہو اور بیمار کے پوچھنے کو جائے ادب المفرد میں بخاری کی یہ حدیث ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ذکر کی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا مسلمان کے مسلمان پر چھ حق واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز ترک کرے تو اپنے بھائی کا ایک حق چھوڑیگا جو اس کے لئے اس پر واجب تھا ، ملاقات کے وقت اسے سلام کرے ، اور وہ دعوت کرے تو قبول کرے یا وہ پکارے تو جواب دے اور ، جب اسے چھینک آئے ( اور وہ حمدالٰہی بجالائے ) تو یہ اسے "یر حمک اﷲ" کہے، اور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جائے ، اور اس کی موت میں حاضر ہو، اور اگر اس سےنصیحت چاہے تو نصیحت کرے ۔ پھر محقق نے فرمایا ضرور ہے اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر حمل کریں جو وجوب کے اس معنی سے کہ فقہ کی اصطلاح حادث میں ہے عام ہو اصل کہ ظاہر حدیث یہ ہے کہ ابتداء بہ سلام واجب ہو اور نماز جنازہ فرض عین ہو تو حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی انتہی، اور عبارت عبدالحلیم میں یہ معنی وجوب لینا ضرور ہے بسبب ان دلیلوں کے جو ہم قائم کرچکے اور تو اسے ظاہر پر محمول کئے بغیر نہ مانے تو یہ شیخ عبدالحلیم کی اپنی ایک سمجھ ہے جس پر انہوں نے کوئی نقلی سند پیش نہ کی اور ان کی فہم شرع میں حجت نہیں خصوصاً جبکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہوں ۔
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الادب القاضی     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۷۳)
وثالثاً ان لم یحمل علی ما قلنا یکون کلامہ قد ناقض نفسہ لانہ ذکر بعد ھذا بورقۃ واقعۃًتحدث فی الدولۃ العثمانیۃ من تبدیل الدراہم العتیقۃ المغشوشۃ الغالبۃ فیہا الفضۃ بدراہم جدیدۃ جیدۃ و یمنع بظہور ھا التعامل بالعتیقۃ و من ردائۃ العتیقۃ ان الدرہم الکبیر الرومی وھو المسمی بالقرش یکون بمائۃ وعشرین درھما منھا والدینار بمائتین واربعین فاذا ظھرت الجدیدۃ ینزل القرش الی ثمانین من الجدیدۃ والدینار الی مائۃ وعشرین فیقع بین الناس نزاع کثیر فی دیونھم الواقعۃ فی زمن العتیقۃ قال فافتی اسلافنا من ساداتنا علماء قسطنطنیۃ المحمیّۃ بتنزیل ثلث الدین فبمقابلۃ دین مائۃ وعشرین درھما یعطی المدیون الدائن ثمانین درھما جدیدا او قرشاواحداوبمقابلۃ مأتین واربعین دینارااو قرشین الٰی ان جاء زمن افتاء استاذنا المرحوم اسعد بن سعد الدین فافتی بان یعطی قیمۃ العتیقۃ فی زمن العقدمن الدینار مثلاً لکل مائتین واربعین درھما یعطی دینارا ولم یجوز اعطاہ درھما جیداولا قرشا و صرح بان فی المسلک السابق حقیقۃ الربا او شبھتہ ۱؎ ،
ثالثاً اگر اس معنی پر محمول نہ کیا جائے تو ان کا کلام خود اپنے نفس کا مناقض ہوگا، اس لئے کہ انہوں نے اس کلام سے ایک ورق بعد دولت عثمانیہ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے ، پرانے روپے جن میں میل ہے اور چاندی غالب ہوتی ہے انہیں نئے کھرے روپے سے بدلتے ہیں اور ان نیؤں کے بعد پرانوں سے معاملہ کرنا منع کردیا جاتا ہے اور پرانوں کا کھوٹا پن یہاں تک ہے کہ ایک بڑا روپیہ رومی جسے قرش کہتے ہیں ان پرانوں کے ایک سو بیس کے برابر ہوتاہے اور اشرفی دو سو چالیس کے برابر ، جب نئے روپے چل جاتے ہیں تو قرش کی قیمت ان نیؤں سے اسی روپے رہ جاتی ہے اور اشرفی ایک سو بیس کی ، تو لوگوں کا وہ لین دین جو پرانے روپیوں کے زمانے میں ہوا تھا اس میں بڑا جھگڑا پڑجاتا ہے تو علمائے محرسہ قسطنطنیہ سے ہمارے اگلوں سرداروں سے یہ فتوی دیا کہ تہائی دین اتاردیں، تو ایک سو بیس پرانے روپے کی جگہ مدیون دائن کو نئے اسی روپے یا ایک قرش دے اور دو سو چالیس پرانے روپے کی جگہ ایک اشرفی یا دو قرش یہاں تک ہمارے استاذ مرحوم اسعد بن سعد الدین کے افتا کا وقت آیا تو انہوں نے یہ فتوٰی دیا کہ زمانہ عقد میں پرانے روپیوں کی جو قیمت تھی اتنی قیمت کی اشرفیاں دی جائیں مثلاً ہر دو سو چالیس روپے کے بدلے ایک اشرفی دے اور یہ جائز نہ رکھا کہ اسے نیا روپیہ یا قرش دے اور تصریح فرمائی کہ اگلے مسئلہ میں یا تو حقیقۃً سود ہے یا اس کا شبہہ۔
 (۱؎ حاشیۃ الدرر لعبدالحلیم )
ثم قال یقول العبد ان ماافتی بہ اولاصحیح ایضا مع ان فیہ یسراوتوسیع دائرۃ لاداء الدین اما صحتہ فان الدراہم العتیقۃ لما کانت رائجۃ کما یروج القرش والدینار من غیر فرق بینھن تقرر ان دین المدیون استقر فی ذمتہ علی ھذاالتفصیل وصرف الدین الی ماقدربہ فی الاداء من کل نوع ای نوع کان من العتیقۃ و القرش والدینار کماصرح الفقہاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی و الثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃو القرش والدینار کما صرح الفقھاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی والثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃ وظہر الجدیدۃ ورخص القرش والدینار بالتنزیل الی ما سبق ذکرہ نزل الدین کذٰلک وفیہ توسیع دائرۃ ویسر تام اذ یؤدی المدیون من ای نوع قدر بخلاف ما افتی بہ ثانیاً اذقد لایکون للمدیون دینار وقد لایجد وقد یکون الدین او الباقی غیر بالغ الی قیمۃ الدینار فیعسر الاداء مع ان الاثمان الرائجۃ فی زمن العقد  سوی العتیقۃ باقیۃ علی رواجھا ولیس فیہا کساد ولا منع سوی الترخیص بالنسبۃ الی الجیدۃ فمن این التکلیف للمدیون باداء الدین بالدینار فقط فظہر ان ماافتی بہ اولا صحیح علی وجہ الیسر لا عسر فیہ نعم لو سلم وجدان الربا اما حقیقۃ او حکما فی الاداء بالجدیدۃ او بالقرش بان لا مساواۃ بینھما وزنا اولا یعلم فانہ یدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ او القرش کما لایخفی ۱؎ اھ ملخصاً ، والمسئلۃ مذکورۃ فی الدر وغیرہ واختار العلائی ماافتی بہ سعدی افندی وھو الالزام بالذھب ومال ابن عابدین الٰی نحو مامال الیہ عبدالحلیم وحاصلہ اولامنع ان اللازم علی ذمۃ المدیون عین العتیقۃ حتی یکون الاداء بالجدیدۃ او القرش مع عدم مساواتھا للعتیقۃ وزناً ربا بل الازم تلک المالیۃ المقدرۃ بای الثلثۃ شاء فاذا کسد منھا واحد جاز الاداء عن احدالباقین قلت وبہ ظھران تعبیر ھم بتنزیل ثلث الدین مسا محۃ نظرا الٰی ظاہر التغیر فی عدد الدراہم حیث یعطی من الجدیدۃ ثمانین مکان مائۃ وعشرین والافلا تنزیل فی المالیۃ اصلا و ثانیا ان سلم لزوم العتیقۃ عینا فیدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ اوالقرش وقد افتی ھو بہ الناس و جعلہ یسرا تاما من دون عسر اتاما من دون عسر وای یسر بعد حصول کراھۃ التحریم فاذن لا محید عما ذکرنا وباﷲ التوفیق وبالجملۃ ماکانت امثال ھذہ الشبہات لتذکر و تسطر لو لا ما فی جوابھا من فوائد تظہر و تزھر،
پھر شیخ عبدالحلیم نے کہا کہ وہ جو پہلوں نے فتوٰی دیا وہ بھی صحیح ہے اور اس کے ساتھ اس میں آسانی ہے اور ادائے دین کے دائرہ میں وسعت ، اس کی صحت تو اس سبب سے ہے کہ پرانے روپوں کا جب بعینہ ایسا ہی چلن تھا جیسے اشرفی اور قرش کا، توثابت ہوا کہ مدیون پر دین اسی تفصیل سے ٹھہرااور دین کاحاصل اس طرف پھیرے گا کہ اتنی مقدار کا مال لازم ہے کسی نوع میں سے ہو ، پرانے روپے ہوں یا قرش یا اشرفی جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے جب کہ مختلف سکوں کا ایک ساچلن ہو ، تو جب پرانوں کا چلن بند کردیا گیا اور نئے چلنے لگے اور قرش اور اشرفی کا بھاؤ اس مقدار پر کہ اوپر مذکور ہوئی اتر گیا دین بھی اتنا ہی اتر جائے گا اور اس میں دائرہ کی وسعت اور پوری آسانی ہے اس لئے کہ مدیون جس نوعیت پر قدرت پائیگا اس میں سے ادا کریگا بخلاف دوسرے فتوٰی کے ، اس لئے کہ کبھی مدیون کے پاس اشرفی نہیں ہوتی اور نہ اسے ملتی ہے ، اور کبھی کل دین یا باقی اتنا نہیں ہوتا کہ اشرفی کے مقدار کو پہنچے توادا دشوار ہوگی حالانکہ جو ثمن زمانہ عقد میں رائج تھے وہ پرانے روپیوں کے سوا بدستور رائج ہیں ان کا نہ چلن گھٹا نہ منع کیا گیا سوا اس کے کہ نئے روپیوں سے ان کا بھاؤ سستا ہوگیا تو کہاں سے مدیون کو مجبور کیا جائے گا کہ خاص اشرفی ہی سے اپنا دین ادا کرے تو ظاہر ہوا کہ وہ جو پہلا فتوٰی تھا صحیح اور آسان ہے اس میں کچھ دشواری نہیں، ہاں اگر یہ مان لیا جائے کہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنے میں حقیقۃً ربا ہے یا حکماً یوں کہ دونوں کا وزن برابر نہیں یا برابری کا علم نہیں تو وہ یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپے یا قرش کے ساتھ مثلاً ایک پیسہ ملاکردیا جائے جیسا کہ پوشیدہ نہیں انتہی ملخصاً، اور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے اور صاحب درمختار نے اسی کو اختیار کیا جو سعدی آفندی کا فتوٰی ہے کہ مدیون پر سونے ہی سے ادا کرنا واجب ہے اور علامہ شامی نے اس طرف میل کیا جس طرف شیخ عبدالحلیم کی رائے جھکی اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اول تو ہم یہی نہیں مانتے کہ مدیون کےذمہ خاص پرانے روپے ہی دینا واجب تھے تاکہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنا جبکہ وہ پرانوں سے وزن میں برابر نہ ہوں ربا ٹھہرے بلکہ اتنی مالیت لازم تھی جس کا اندازہ ان تینوں سکوں میں سے جس سے چاہے کرلے تو جب ان میں سے ایک کا چلن جاتا رہا تو دو باقیوں میں  سے جس سے چاہے ادا کردے اقول:  یہیں سے ظاہر ہوا کہ ان کا یہ فرمانا کہ تہائی دین اتار دیا جائے مسامحہ ہے روپیوں کی گنتی می جو ظاہر تغیر ہو اس پر نظر فرماکر ایسا کہا کہ ایک سو بیس کی جگہ نئے اسی دے گا ورنہ مالیت میں اصلاً تغیر نہ ہوا ، دوسرے یہ کہ اگر خاص پرانے روپے ہی لازم ہونا مان لیا جائے تو سود یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپیوں یا قرش کے ساتھ مثلاً! ایک پیسہ ملاکر دے اور فاضل عبدالحلیم نے لوگوں کو اس کا فتوٰی دیا ور اسے پوری آسانی بلا دشواری بتایا اور کراہت تحریم ہونے کے بعد کون سی آسانی ہے تو وہ معنی جو ہم نے ذکر کئے ان سے مفر نہیں اور توفیق اﷲ ہی کی طرف سے ہے بالجملہ ایسے شبہات اس قابل نہ تھے کہ ذکر کئے جائیں اور لکھے جائیں اگر یہ نہ ہوتا کہ ان کے جوابوں سے چمکتے ہوئے فائدے ظاہر ہوئے،
 (۱؎ حاشیۃ الدرر لعبدالحلیم )
Flag Counter