| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول : وبہ تبین والحمدﷲ ان لیس فیہ اعنی فی بیع دینار بدرھم بل فلس فضلا عن بیع نوط عشرۃ باثنٰی عشر شبھۃ ربا ایضا فضلا عن الربا خلافا لما زعم اللکنوی اذ الشبھۃ فی المحرمات ملحقۃ بالیقین کما نص علیہ فی الھدایۃ وغیرہا فلو کانت لو جبت الحرمۃ فضلا عن کراھۃ التحریم وقد قامت الادلۃ ان لاکراھۃ تحریم ھھنا فضلا عن الحرمۃ فظہر ان لاربا و لاشبہۃ ھذا و انما جل مایتشبث بہ ھذاالمانع ان النوط(عہ) مغرق فی الربابی کانہ ھی من دون فرق ولذا لایفرقون بینھما فی الاخذوالاعطاء فی المعاملات فاذن کانہا عشر ربابی بیعت باثنی عشرۃ ربیۃ وھو ربا قطعا فھذاان لم یکن ربا فبشبھہ یلتحق بہ ویحرم ۔
اقول: الحمد ﷲ اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا درکنار ایک اشرفی ایک روپے بلکہ ایک پیسہ کو بیچنے میں ربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہیں برخلاف اس کے جو لکھنؤ ی نے زعم کیا اس لئے کہ حرام چیزوں میں شبہہ بھی حکم یقین میں ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں منصوص ہے تو اگر یہاں شبہہ ہوتا تو حرمت واجب ہوتی چہ جائے کراہت تحریم، اور دلائل قائم ہوچکے کہ یہاں کراہت تحریم بھی نہیں چہ جائے حرمت ، توظاہر ہوا کہ یہاں نہ سود ہے نہ سو دکاشبہہ، یہ تو لیجئے اور آگے سنئے ان منع کرنے والے کی بڑی سند جو کچھ ہے یہ ہے کہ نوٹ روپوں میں غرق ہے گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اور کچھ فرق نہیں اسی واسطے لوگ معاملات میں روپے اور نوٹ کے لین دین میں کچھ فرق نہیں کرتے تو گویا وہ یوں ہواکہ دس روپے بارہ کو بیچے گئے اور وہ بلا شک رباہے تو یہ اگر سود نہ ہو تو اس کی مشابہت کے سبب سو د سے لاحق ہوکر حرام ہوجائے گا۔
عہ: بل زعم ذاک اللکنوی ان من باع نوطا معلما برقم مائۃ مثلا فانما یرید بیع مائۃ ربیۃ واخذ بدلھا لا بدل النوط،
عہ: بلکہ اس مولوی لکھنوی نے یہ زعم کیا کہ سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کاغذ کی نہیں ہوتی ہے بلکہ مقصود سو روپے بیچنا اور اس کی قیمت لینا ہوتا ہے ،
اقول: اولا لوکان الامر کما زعمت لماصح بیع النوط بالربابی اصلا لانہ اذن بیع مائۃ درھم افرنجی بمائۃ درھم افرنجی وھی لاتتفاوت فیما بینھما بشیئ فکان الاستبدال عبثا والشرع لا یشرع العبث فی الاشباہ العقود تعتمد صحتھا الفائدۃ فما لم یفد لم یصح فلا یصح بیع درھم بدرھم اذا تساویا وزناو صفۃ کما فی الذخیرۃ ۱؎ اھ
اقول: ( میں کہتا ہوں) اولاً اگر معاملہ یوں ہوتا تو روپیوں کے بدلے نوٹ بیچنا اصلاً جائز نہ ہوتا کہ اب یہ سو روپے انگریزی سوروپے انگریزی کو بیچنا ہوا اور انگریزی روپے باہم کچھ فرق نہیں رکھتے تو یہ سوروپے دے کر وہ سو روپے لینا نرا عبث ہوا اور شرع عبث کو مشروع نہیں فرماتی ، اشباہ میں ہے عقد جب صحیح ہوتاہے کہ اس سے کچھ فائدہ بھی ہو جومحض بے فائدہ ہے وہ عقد صحیح نہیں تو ایک روپیہ ایک روپے کو بیچنا ناجائز ہے جبکہ دونوں روپے وزن وحالت میں برابر ہوں جیسا کہ ذخیرہ میں ہے انتہی ،
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۲۵)
وثانیاً قم یوما عن اریکتک واذھب الی البیاعین فاذا رأیت زیداباع نوطا من عمرو فاسألہ ھل قلت لہ بعتک مائۃ ربیۃ فسیقول لا وانما قلت بعتک ھذا النوط ، فاسألہ ھل اردت ان تستبدل مائۃ ربیۃ لک بمائۃ ربیۃ لعمرو فسیقول لاوانما اردت استبدال نوطی بربا بیۃ فاسألہ ھل اخذت ثمن ربابیک فیسقول لابل ثمن نوطی فاسألہ ھل تنقد لہ مائۃ ربیۃ من کیسک فسیقول لابل اعطیہ نوطی فعند ذلک یتمیز لک النہار من اللیل،
ثانیاً مولوی صاحب ذرا اپنی مسند سے اٹھ کر کسی دن بازار جائیے جب دیکھئے کہ زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی نوٹ بیچا تو اس سے پوچھئے کیا تو نے اس سے یوں کہا تھا کہ میں نے تیرے ہاتھ سو روپے بیچے وہ ابھی ابھی جواب دے گا کہ نہ ، بلکہ میں نے تو یہ کہا کہ یہ نوٹ تیرے ہاتھ بیچا ، اب اس سے پوچھئے کیا تو نے یہ قصد کیا تھا کہ اپنے سو روپے عمرو کے سو روپیوں سے بدلے ، وہ ابھی جواب دے گا کہ نہ ، بلکہ اپنا نوٹ اس کے روپیوں سے بدلنا چاہا ، اب اس سے پوچھئے کیا تو نے اپنے روپیوں کی قیمت لی وہ ابھی جواب دیگا نہ ، بلکہ اپنے نوٹ کی۔ اب اس سے پوچھئے کیا تو اپنی تھیلی میں سے سو روپے اسے دے گا، وہ ابھی جواب دے گا کہ نہ بلکہ اسے اپنا نوٹ دوں گا اس وقت آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ دن اور رات میں یہ فرق ہے ،
وثالثاً لیتک تعرف المبیع من المعدوم فان البائع ربما لا تکون عندہ الربابی بل ولاربیۃ واحدۃ وبیع المعدوم باطل وقد نہی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ،
ثالثاً کاش آپ کو مبیع و معدوم کا فرق معلوم ہوتا اس لئے کہ بارہا نوٹ بیچنے والے کے پاس روپے نہیں ہوتے بلکہ ایک روپیہ تک نہیں ہوتا تو اگر اسے سوروپے بیچنا مقصود ہوتے تو معدوم کی بیع کررہا ہے ، اور معدوم کی بیع باطل ہے ، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
ورابعاً من احتاج الی النوط لیر سلہ فی البوسطۃ فان ارسالہ فیہا ایسر واقل مصروفا فباعہ زید نوطہ ثم ارادہ ان یعطیہ مائۃ ربیۃ لایقبلہ المشتری ویقول انما اشتریت منک النوط وقد کانت الربابی عندی فما کان یحوجنی الٰی شرائھا منک وعند ذلک تعرف ان نسبۃ ذٰلک القصد الیہم فریۃ علیہم ،
رابعاً جسے ڈاک میں بھیجنے سے آسان بھی ہے اور خرچ بھی کم ہے اس کے ہاتھ جبکہ زید نوٹ بیچے اور پھر نوٹ نہ دے بلکہ اس کی جگہ سو روپے دینا چاہے تو خریدار ہر گز نہ لے گا اور اس سے کہے گا کہ میں نے تو تجھ سے نوٹ خریدا تھا روپے تو خود میرے پاس موجود تھے مجھے تجھ سے روپے خریدنے کی کیا حاجت تھی اس وقت آپ کو معلوم ہوجائیگا کہ نوٹ بیچنے میں ان کا یہ قصدقرار ینا کہ روپے بیچتے ہیں ان پر افتراء ہے ۔
وخامساً بائع النوط اذا قبض دراہم الثمن واراد ردھا یعد ھذا عندھم اقالۃ البیع لاتسلیما للمبدل وھذا کلہ واضح جلی علی من یعرف الشمال من الیمین فسبحٰن اﷲ من مبیع لم یعقد علیہ ولا قصد الیہ ولا نقد منہ بل ان نقد لم یقبل ولم یعد نقد المبدل بل ربما لایکون عند من باع فھل سمعت بمثلہ مبیعا فی الدنیا ولا عقد ولا نقد ولا قصد ولا وجد ولکن قلۃ الفھم و التدبر یأتی بعجائب نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ، وبہ علم بطلان ماقصد بہ التفرقۃ بین الفلوس و النوط بان من اشتری شیئا بربیۃ او استقرض ربیۃ وارادان یعطی بدلھا فلوس ربیۃ فالدائن والبائع بالخیار فی قبولھا ولا یجبرہ علیہ القاضی بخلاف النوط و من این لہ ادعاء ھذا ومن قال بہ وسیأ تیک و تحقیق الامر بعد اسطر وباﷲ التوفیق اھ منہ۔
خامساً نوٹ بیچنے والا جب قیمت کے روپے لے کر نوٹ نہ دے بلکہ روپے ہی پھیرے تو یہ ان کے نزدیک بیع کا فسخ ٹھہرتا ہے نہ یہ کہ اس نے جو چیز بیچی تھی وہی خریدار کو دے رہا ہے اور یہ سب باتیں ہر اس شخص پر روشن و ظاہر ہیں جسے دہنے بائیں میں تمیز ہو تو سبحان اﷲ وہ سو روپے جو بیچنے ٹھہرائے عجب مبیع ہیں کہ نہ ان پر خریدو فروخت کا لفظ واقع ہو، نہ ان کے لینے دینے کا ارادہ ہوا ، نہ بائع نے وہ دئے بلکہ وہ دے تو خریدار لے نہیں اور مبیع کا دینا نہ ٹھہرے بلکہ بار ہا وہ بائع کے پاس ہوتے بھی نہیں تو دنیا میں ایسی کوئی مبیع سنی ہے کہ بک گئی اور نہ عقد نہ نقد نہ قصد نہ وجود، مگر ہے یہ کہ فہم یا فکر کی کمی عجائب لاتی ہے ہم اﷲتعالٰی سے معافی وعافیت مانگتے ہیں اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ مولوی صاحب نے جو پیسوں اور نوٹ میں یوں فرق نکالنا چاہا ہے کہ اگر ایک روپیہ کے عوض کوئی چیز خریدے یا روپیہ کسی سے قرض لے اور بوقت ادا پیسے ایک روپیہ کے دے تو دائن اور فروخت کنندہ کو اختیار رہتا ہے لے یا نہ لے اور حاکم کی طرف سے اس پر جبرنہیں ہوسکتا بخلاف نوٹ کے یہ فرق باطل ہے ، اور یہ ادعا انہوں نے کہاں سےنکالا اور کون اس کا قائل ہے اور عنقریب چند سطر کے بعد اس امر میں جو حق ہے اس کا بیان آتا ہے اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے ۱۲منہ۔