Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
108 - 180
والسادس: طفحت المتون قاطبۃ بجواز بیع فلس بفلسین وقال فی البحر لیس مرادھم خصوص بیع الفلس بالفلسین بل بیان حل التفاضل حتی لوباع فلسا بمائۃ علی التعیین جاز عندھما۱؎ ای عند الشیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما وای نص ترید انص من ھذا علی حل التفاضل بالمالیۃ والحمدﷲ، نعم الحل قد یجامع کراھۃ التنزیہ کما نصواعلیہ،
دلیل ششم : تمام متون بالاتفاق اس تصریح سے لبریز ہیں کہ ایک پیسہ دو پیسے کو بیچنا جائز ہے اور بحرالرائق میں فرمایا کہ ان کی مراد خاص یہی نہیں ہے کہ ایک پیسہ دو پیسے کو بلکہ کمی بیشی حلال ہونے کا بیان مقصود ہے یہاں تک کہ اگر ایک پیسہ سو معین پیسے کو بیچے تو امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے نزدیک حلال ہے اور اس سے بڑھ کر تو اس پر اور کون سا روشن تر نص چاہتا ہے کہ مالیت میں کمی بیشی روا ہے والحمد ﷲ، ہاں حلال ہونا کبھی کراہت تنزیہ کے ساتھ جمع ہوجاتا ہے جیساکہ علماء نے تصریح فرمائی۔
 (۱؎ بحرالرائق     باب الربا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۶/ ۱۳۲)
السابع:  العینۃ المذکورۃ فانما مبناھا علی التفاضل فی المالیۃ ولا یتقید بنحوعشرۃ باثنی عشر او ثلثۃ عشر کما فی الخانیۃ او خمسۃ عشر کما فی الفتح بل صورت بصورت الضعف ایضا قال فی الفتح من صور العینۃ ان یبیع متاعہ بالفین من المستقرض الٰی اجل ثم یبعث متوسطا یشتریہ لنفسہ بالف حالۃ ویقبضہ ثم یبیعہ من البائع الاول بالف ثم یحیل المتوسط بائعہ علی البائع الاول بالثمن الذی علیہ وھو الف حالۃ فید فعھا الی المستقرض ویأخذ منہ الفین عند الحلول ۱؎ اھ واذجاز ضعف جازت الاضعاف،
دلیل ہفتم :  عینہ مذکورہ کہ اسکی بناء ہی مالیت میں کمی بیشی پر ہے، اور وہ کچھ اسی پر بند نہیں کہ دس کے بارہ یا تیرہ کریں جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان میں ہے یا پندرہ جیسا کہ فتح القدیر میں بلکہ دو نادون کی صورت بھی اس میں بیان کی گئی ہے، فتح القدیر میں فرمایا کہ عینہ کی ایک صورت یہ ہے کہ اپنی متاع قرض لینے والے کے ہاتھ ایک وعدپر دو ہزار کو بیچے پھر کسی درمیانی شخص کو بھیجے کہ وہ اس سے اپنے لئے ہزار نقد کو خرید کر قبضہ کرلے پھر یہ درمیانی شخص پہلے شخص سے اسے ہزار کو بیچ ڈالے پھر وہ درمیانی اپنے بائع یعنی قرض لینے والے کا ثمن پہلے بائع پر اتار دے اور وہ ہزار روپے نقد ہیں تو پہلا بائع ہزار روپے قرض لینے والے کو دے دے اور وعدہ پر دو ہزار اس سے لے انتہی، اور جب دو نا جائز ہوا تو کئی گنا بھی جائز ہے،
 (۱؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۶ /۳۲۴)
اقول:ولا یلزم المتوسط بل لہ ان یبیعہ من المستقرض بالفین یبیعہ المستقرض فی السوق بالف کیلا تعود العین الی المقرض فیکون مکروہا تحریما فی بحث المحقق وان کان فیہ للکلام مجال فان شراء ماباع باقل مما باع جائز عند توسط ثالث بالاجماع ولم یذکروا فیہ تأثیما وقد تقدم عن فقیہ النفس فی حیل الفرار عن الحرام وانی تتم الحیلۃ مع بقاء المعصیۃ لاجرم قال العلامۃ عبدالحلیم فی حواشی الدرر الظاہر کراھۃ تنزیہ سواء کان فی صورۃ عود کل المدفوع او بعضہ الی الدافع اولا ۱؎ تدبر ،
اقول:(میں کہتا ہوں) اس درمیانی شخص کا ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ بھی کرسکتاہے کہ قرض لینے والے سے (ہزار کی چیز) دو ہزار کو بیچے وہ بازار میں ہزار کو بیچ لے تاکہ وہ متاع قرض دینے والے کی طرف عود نہ کرے کہ عود کرنے کی حالت میں محقق کے نزدیک مکروہ تحریمی ہوجائے گی، اگرچہ اس میں کلام کی گنجائش ہے کہ اپنی بیچی ہوئی چیز جتنے کو بیچی ہے اس سے کم کو خریدنا بالاجماع جائز ہے جبکہ تیسرا شخص متوسط ہے اور علماء نے اس میں کوئی گناہ تحریر نہیں فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خان سے یہ امر اوپر گزرچکا جہاں انہوں نے حرام سے بھاگنے کے حیلے بیان فرمائے اور اگر معصیت باقی رہے تو حیلہ کہاں پورا ہو، لاجرم علامہ عبدالحلیم نے حواشی درر میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہی ہے چاہے جو متاع دی وہ پوری دینے والے کی طرف عود کرآئے یا اس کا حصہ یا کچھ نہیں، تدبر،
 (۱؎ حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم    )
والثامن: شرطوا الجواز شراء الوصی مال الیتیم لنفسہ او بیعہ مال نفسہ لہ الخیریۃ للیتیم و جعلوھا فی العقار بالضعف وفی غیرہا بمثل ونصف ۲؎ کما فی الخانیۃ والھندیہ وشرطوا الجواز بیعہ مال الیتیم من اجنبی ان لم تکن للصغیرہ حاجۃ الی ثمنہ ولا علی المیت دین لاوفاء لہ الابہ ان یبیعہ بضعف القیمۃ قال فی الھندیۃ عن محیط السرخسی وعلیہ الفتوی۳؎ فھذا تفاضل فی المالیۃ مأ موربہ من جہۃ الشرع ،
دلیل ہشم: وصی اگر یتیم کامال خود خریدنا یا اپنا مال اس کے ہاتھ بیچنا چاہے تو اس کے جواز کے لئے علماء نے یہ شرط فرمائی ہے کہ اس خریدو فروخت میں یتیم کا نفع ہو اور اس نفع کی مقدار جائداد غیر منقولہ میں دو چند رکھی اور منقولہ میں ڈیوڑھی،جیساکہ فتاوٰی قاضی خان اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے اور وصی اگر یتیم کا مال کسی دوسرے کے ہاتھ میں بیچنا چاہے اور نابالغ کو اس کی قیمت کی ضرورت نہ ہو اور نہ مورث پر کوئی دین ہو کہ بغیر اس کے بیچے پورا نہ ہو تو اس صورت میں جواز بیع کی یہ شرط لگائی کہ دونی قیمت پر بیچے، ہندیہ میں محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اسی پر فتوٰی ہے تو مالیت کی اس کمی بیشی کا خود شرع کی طرف سے حکم ہے،
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۱۷۶)

(۳؎فتاوٰی ہندیہ     الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۱۷۶)
والتاسع:  ماتقدم عن الفتح وغیرہ من المعتمدات من قولہ لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۴؎
دلیل نہم : وہ جو فتح القدیر وغیرہ معتمد کتابوں سے گزرا کہ اگر ایک کاغذ ہزار روپے کو بیچا تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ___
 (۴؎ فتح القدیر     کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۲۴)
والعاشر: فی باب الربا من ردالمحتار عن الذخیرۃ اذادفع الحنطۃ الی خباز جملۃ واخذ الخبز مفر قا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما او سکینا من الخباز بالف من من الخبز مثلا۱؎ الخ واین یقع سکین من الف من من الخبز ونظائر ھذ الوسرد نا ھالم نستطع احصاء ھا وانما تنزلنا بعد السادس الٰی ھنا لان کلامھم فی المضموم الاقل مطلق من ان یکون من الاثمان اوالاعیان ومن الاموال الربویۃ او من غیرہا فھذا غایۃ تحقیق المسألۃ،
دلیل دہم: ردالمحتار کے باب ربا میں ذخیرہ سے ہے جب نانبائی کو گیہوں اکٹھے دے دئے اور روٹی تھوڑی تھوڑی کرکے لی تو یوں چاہئے کہ گیہوں والانانبائی کے ہاتھ ایک انگوٹھی یا چاقو مثلا ہزار من روٹی کو بیچے الخ اور بھلا کہاں چاقو اور کہاں ہزار من روٹی اور اس کے نظائر اگر ہم بیان کرتے جائیں تو ان کا احاطہ نہ کرسکیں گے اور دلیل ششم کے بعد جو ہم یہاں تک اتر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو علماء نے فرمایا تھا کہ جس جانب وزن کی کمی ہے کوئی چیز ملادی جائے وہ ان کے کلام میں مطلق ہے خواہ ثمن ہو یا متاع اور اموال ربا سے ہویا نہیں تو یہ تحقیق مسئلہ کی انتہا ہے،
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    باب الربا     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۱۸۶)
Flag Counter