مجھ میں بھی سرایَت کر چکی تھیں ، بات بات پر ہر ایک سے لڑنا جھگڑنا، داڑھی شریف مُنڈوانا، بدنگاہی کرنا میرے معمولات کا حصہ تھا اس کے علاوہ دین سے دوری کے سبب میں کسی سے دعا سلام بھی نہیں کرتا تھا۔ میری خزاں رسیدہ زندگی میں نیکیوں کی بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک دفعہ میں نے مدنی چینل دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا۔اب میں نے پابندی سے مدنی چینل دیکھنا شروع کر دیا، جس کی برکت سے رفتہ رفتہ مجھے گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت ہو گئی اور میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا۔ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے لگا اور اپنے آپ کو حتی الامکان گناہوں کی آلودگیوں سے بچانے لگا۔ اسی دوران ایک دن میری مسجد میں دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ عاشقِ رسول اسلامی بھائی سے ملاقات ہو گئی ان کے حسنِ اخلاق اور ملنساری کے محبت بھرے انداز نے مجھے بہت متأثر کیا۔ چند دنوں بعد وہی اسلامی بھائی میری دکان پر تشریف لائے اور سلام و مصافحہ کے بعد نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے قبر و حشر کی تیاری کا ذہن دیا، مجھے ان کی نیکی کی دعوت کا انداز بہت بھلا لگا، پھر خوش قسمتی سے ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی، وہاں کی پُر نور فضاؤں میں میرے دل و دماغ کو بہت روحانی سکون ملا، اجتماع میں شریک کثیر اسلامی بھائیوں کے سروں پر سبز سبز