Brailvi Books

جھگڑالو کیسے سُدھرا؟
27 - 32
ممانعت کرتے ہوئے فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 158 تا 159 پر فرماتے ہیں : جس نے قصداً ایک وقت کی (نماز) چھوڑی ہزاروں برس جہنَّم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے ، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں اُسے (یعنی اس بے نمازی کو) یک لخت (بالکل) چھوڑ دیں اُس سے بات نہ کریں ، اُس کے پاس نہ بیٹھیں ، تو ضرور وہ (بے نمازی )اِس (بائیکاٹ) کا سزاوار (یعنی لائق) ہے۔ (بے نمازی چونکہ ظالم ہے اس لئے اس کی صحبت سے بچنے کی تاکید مزید کرتے ہوئے سیِّدی اعلیٰ حضرت نے قراٰنی آیت پیش کی ہے چُنانچِہ لکھتے ہیں کہ)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَاتَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
ترجمہ کنزالایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(پ ۷، الانعام:۶۸)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!		 صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{9}لَڑاکو کی توبہ
	غلام محمد آباد سردار آباد (فیصل آباد، پنجاب) کے علاقے سُدُّوپور کی پُلی کے مقیم اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے اپنی وابستگی اور نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن ہونے کے احوال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے میں بہت آوارہ گرد نوجوان تھا، معاشرے میں پائی جانے والی کئی بُرائیاں