سے وابستہ ہونے سے قبل میں گناہوں کی مضبوط زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ زندگی کے شب و روز غفلت کی نذر ہو رہے تھے۔ بُرے لوگوں کی مجلسوں میں اُٹھنا بیٹھنا، رات گئے تک مختلف گناہوں میں مشغول رہنا ، صبح دن چڑھے تک سوئے رہنا، نمازیں قضا کر ڈالنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، کھیل کود میں اپنا قیمتی وقت برباد کرنا میرے روز مرہ کے معمولات کا حصہ تھا۔ دین سے دوری اور نماز میں سستی کایہ عالم تھا کہ کبھی کبھار تو جمعہ کی نماز بھی قضا کر دیا کرتا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے کے لئے گھر میں کیبل لگوا رکھی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تشریف لایا تو اپنے گناہوں کا سلسلہ ترک کر کے دیگر مسلمانوں کی طرح میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو گیا۔ گھر میں مدنی چینل بھی چلانا شروع کر دیا، یوں مدنی چینل کے مختلف سلسلے دیکھ کر علمِ دین سے مستفیض ہونے لگا۔ مدنی چینل کی برکت سے مجھ میں دن بدن مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے نمازِ پنج گانہ باجماعت ادا کرنا شروع کر دی، علاقے کے دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ اپنے شہر میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کی سعادت پانے لگا۔ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے رفتہ رفتہ گناہوں سے دور اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے قریب ہوتا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو کر نیکیوں