Brailvi Books

جھگڑالو کیسے سُدھرا؟
21 - 32
افراد مجھ سے بیزار تھے ، مجھے بہت سمجھاتے مگر میرے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔ ایک مرتبہ حسبِ معمول ایک گناہوں بھرا چینل دیکھ رہا تھا کہ دادی جان کمرے میں آگئیں اور مجھے چینل تبدیل کرنے کا کہا۔ چنانچہ چینل تبدیل کرتے ہوئے اچانک میرا ہاتھ مدنی چینل پر پہنچ کر رک گیا میں نے چینل پر جاری سلسلے کو دیکھنا شروع کیا تو اس وقت دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران و مبلغِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی  سنّتوں بھرا بیان فرما رہے تھے ۔ بیان میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ میں کافی دیر تک بیٹھا بغور سنتا رہا۔ رقت انگیز بیان کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ کچھ ہی دیر میں میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی، مجھے اپنی گزشتہ گناہوں بھری زندگی پر ندامت ہونے لگی۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور اس کے بعد صرف مدنی چینل دیکھنے لگا جس کی برکت سے مجھ میں دن بدن مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ میں نے نمازِ پنجگانہ ادا کرنا شروع کر دی، سر پر سبز سبز عمامہ کا تاج سجا لیا اور پھررفتہ رفتہ مکمل مدنی حلیہ میں رنگ گیا۔ مدنی چینل پر دی جانے والی مدنی قافلوں میں سفرکی ترغیبات سُن کر میرا بھی راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کا ذہن بنا۔ میں نے گھر والوں سے اجازت لی اور بارہ دن کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا اور مدنی قافلے کی ڈھیروں برکتیں پائیں پھر کچھ عرصہ بعد 30 دن کے