Brailvi Books

جھگڑالو کیسے سُدھرا؟
20 - 32
بکنے لگتے ہیں اور یوں بچپن سے بڑھاپے تک اس گندی عادت میں گرفتار رہتے ہیں ، لہٰذا ہر مرد و عورت کو چاہئے کہ ہر گز ہر گز گالیاں اور گندے الفاظ منہ سے نہ نکالیں۔ یقیناً فحش الفاظ اور گندے کلام کرنا اچھے لوگوں کا طریقہ نہیں ہے۔ کون نہیں جانتا کہ گالی گلوچ کی وجہ سے خوں ریز لڑائیاں ہو جاتی ہیں جس سے مسلمانوں کی جان و مال کا عظیم نقصان ہو جایا کرتا ہے ۔ مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے میں بدزبانیوں اور گالیوں کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ لہٰذا اس عادت کو ترک کر دینا بے حد ضروری ہے ، عورتوں کواس کا خاص خیال رکھنا چاہے۔ کیونکہ سینکڑوں عورتوں کو ان کی بدزبانیوں اور گالیوں کی وجہ سے طلاق بھی ہو جایا کرتی ہے۔(جنتی زیور، ص۱۲۳ بتصرف) 
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!		 صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{6}سنّتوں بھرے بیان کا کرشمہ
	مرکز الاولیاء (لاہور صوبہ پنجاب) کے رہائشی ایک اسلامی بھائی کا تحریر کردہ مکتوب ضروری ترمیم و اضافہ کے ساتھ پیشِ خدمت ہے: دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا پاکیزہ مدنی ماحول میسر آنے سے پہلے میں گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے کا تو ایسا رسیا تھا کہ دن رات کا اکثر حصہ انہیں خرافات میں بسرہو رہا تھا۔ میری اس عادتِ بد کی وجہ سے گھر کے تقریباً سب ہی