Brailvi Books

جھگڑالو کیسے سُدھرا؟
19 - 32
مبارک سے اداکردہ پُرتاثیر الفاظ میرے دل میں گھر کر گئے جس کی برکت سے مجھے راہِ ہدایت نصیب ہوئی اور میں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو کر دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا اور حسبِ استطاعت اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوششیں کرنے لگا۔ اپنی اصلاح کی کوشش کے لئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کرنے لگا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اب تک عاشقانِ رسول کے ہمراہ متعدد بار مدنی قافلہ کا مسافر بن چکا ہوں۔ تادمِ تحریر اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے علاقے میں دعوتِ اسلامی کی مجلسِ مالیات کے ذمہ دار کی حیثیت سے دین متین کی حسبِ توفیق خدمت کر رہا ہوں۔ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گزشتہ مدنی بہار میں دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ کرنے کا بھی ذکر ہے یاد رکھئے: حدیث شریف میں ہے: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان ، باب بیان قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔الخ، ص۵۲، حدیث:۶۴) مگر افسوس کہ موجودہ معاشرے کا حال یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان ایک تعداد ہے کہ جو اس بلا میں مبتلا ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑوں کی فحش کلامیاں اور گالیاں سن کر بچے بھی گندی گالیاں