Brailvi Books

جھگڑالو کیسے سُدھرا؟
18 - 32
بغیر کَلِمہ پڑھے مرگیا (جب شرابیوں کی صُحبت کا یہ حال ہے تو شراب پینے کا کیا وَبال ہو گا!)
(کتاب الکبائر، ص ۱۰۳، ملخصا)(فیضانِ سنّت ، ۱/۴۲۴ ملتقطاً)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!		صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{5}آوارہ گرد نوجوان کی توبہ
	گجرات (صوبہ پنجاب، پاکستان) کے علاقہ کَڑیانوالہ کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں ایک فیشن پرست اور آوارہ گرد نوجوان تھا، موجودہ معاشرے میں پائی جانے والی تقریباً تمام برائیاں مجھ میں سرایت کر چکی تھیں۔ فلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سننا، بازاروں میں گھومنا پھرنا ، گالی گلوچ کرنا اور کرکٹ کے میدانوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنامیرے روز کے معمولات کا حصہ تھا۔ اس کے علاوہ بھی ایسے گناہوں کا مرتکب تھا کہ جنہیں تحریر کرنے کی اپنے اندر سکت نہیں پاتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر کرم ہوا اور مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آ گیا۔ ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن مدنی چینل پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ایک رقت انگیز بیان بنام ’’کالے بچھو‘‘ سننے کی سعادت نصیب ہوئی، جس  نے مجھے ہِلا کر رکھ دیا، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکا اندازِبیان بیحد سادہ اور عام فہم اورطریقۂ تفہیم ایسا ہمدردانہ تھا کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زبانِ