Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
76 - 107
بددعا کردوں گا۔ جب اِستخارے میں بددعا کی اجازت نہیں ملی تو اس نے صاف صاف جواب دے دیا کہ اگر میں بددعا کروں گاتو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔اب کی بار اس کی قوم نے بہت سے گراں قدر ہدایا اور تحائف اس کے سامنے رکھے اور بددعا کرنے پر بے پناہ اِصرار کیا۔ یہاں تک کہ بلعم بن باعوراء پر حرص و لالچ کا بھوت سوار ہو گیا اور وہ مال کے جال میں پھنس کر ان کی خواہش پوری کرنے پر تیار ہوگیا اور اپنی گدھی پر سوار ہو کر بددعا کے لئے چل پڑا۔ راستے میں بار بار اس کی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑ کر بھاگ جانا چاہتی تھی مگر یہ اس کو مار مار کر آگے بڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ گدھی کو اللہعَزَّوَجَلَّنے گویائی کی طاقت عطا فرمائی اور اس نے کہا : افسوس! اے بلعم ! تُو کہاں اور کدھر جا رہا ہے؟ دیکھ! میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اور میر امنہ موڑ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ اے بلعم! تیرا برا ہو کیا تُو اللہ کے نبی اور مومنین کی جماعت پر بددعا کرے گا؟مگر بلعم بن باعوراء کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھ چکی تھی لہٰذا وہ گدھی کی تنبیہ سن کر بھی واپس نہیں ہوااور’’حُسْبَان‘‘ نامی پہاڑ پر چڑھ گیا اور بلندی سے حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لشکروں کو بغور دیکھا اور بددعا شروع کردی۔ لیکن خدا عَزَّوَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ وہ حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے لئے بددعا کرتا تھا مگر اس کی زبان پر اس کی اپنی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو اُلٹی بددعا کررہے ہو۔کہنے لگا:میں کیا کروں !میں بولتا کچھ اور