Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
75 - 107
(39) زبان لٹک کر سینے پر آگئی
	بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اس کو اسمِ اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ بہت ہی مستجاب الدعوات تھا کہ اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں۔ اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔مشہور یہ ہے کہ اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی صرف دواتیں 12 ہزار تھیں۔ جب حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ’’قومِ جبارین‘‘ سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں ، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دے دیں۔ اس لئے(مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) آپ موسیٰ( عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کے لئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں ، آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اس لئے آپ کی دعا ضرور مقبول ہوجائے گی۔ یہ سن کر بلعم بن باعوراء کانپ اٹھااور کہنے لگا : تمہاراناس ہو، خدا کی پناہ! حضرت موسیٰ( علیہ السلام)  اللہعَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں اور ان کے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے ان پر بھلا میں کیسے اور کس طرح بددعا کرسکتا ہوں ؟ لیکن اس کی قوم نے رو رو کر اور گڑگڑا کر اس طرح اِصرار کیا کہ اس کو کہنا پڑا کہ اِستخارہ کرلینے کے بعد اگر مجھے اجازت مل گئی تو