ہوں اور میری زبان سے کچھ اور ہی نکلتا ہے! پھر اچانک اس پر غضب ِ الٰہی نازل ہوا اوراس کی زبان لٹک کر اس کے سینے پر آگئی۔ اس وقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سے رو کر کہا : افسوس میری دنیا و آخرت دونوں تباہ وبرباد ہوگئیں ، میرا ایمان جاتا رہا اور میں قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو گیاہوں۔ جاؤ! اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔ (تفسیر صاوی،پ۹،الاعراف،تحت الآیۃ:۵۷۱،۲/۷۲۷ملخصًّا)؎
کس کے در پر میں جاؤں گا مولا
گر تُو ناراض ہوگیا یارب(وسائل بخشش ص۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(40) قارون کا انجام
قارون حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے چچا ’’یَصْہَر‘‘ کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو ’’مُنَوَّر‘‘ کہا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ’’تورات‘‘ کا بہت بڑا عالم، اور بہت ہی ملنسار و بااخلاق انسان تھا اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے لیکن بیشمار دولت اُس کے ہاتھ میں آتے ہی اُس کے حالات میں ایک دَمتَغیُّر پیدا ہو گیا اور سامری کی طرح مُنافِق ہو کر حضرتِ سیّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا بہت بڑا دشمن ہو گیا اوربہت زیادہ متکبر اور مغرور ہو گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اُس