Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
60 - 107
روک ٹوک کرتے رہتے تھے، اس لئے اس ظالم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو قتل کرادیا ۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کا واقعہ بڑا ہی عجیب وغریب ہے، حجاج نے پوچھا : سعید بن جبیر !بولو میں کس طریقے سے تمہیں قتل کروں ؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا کہ جس طرح تو مجھے قتل کریگا قیامت کے دن اسی طریقے سے میں تجھے قتل کروں گا۔حجاج نے کہا کہ تم مجھ سے معافی مانگ لو میں تمہیں چھوڑ دوں گا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا : میں اللہعَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی دوسرے سے معافی نہیں مانگ سکتا۔ حجاج نے جھلا کر جلاد سے کہا:اس کو قتل کردے۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  یہ سن کر ہنسنے لگے ۔ حجاج نے تعجب سے پوچھا : اس وقت کس بات پر ہنس پڑے؟ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا :  اللہعَزَّوَجَلَّ کے سامنے تمہاری جراء ت پر مجھے تعجب ہوا اور ہنسی آگئی۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ جلّاد کے سامنے قبلہ رُو کھڑے ہوگئے اوریہ آیت پڑھی:
 اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾ 
ترجَمۂ کنزالایمان: میں نے اپنامنہ اس کی طرف کیاجس نے آسمان وزمین بنائے ایک اسی کاہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں۔
حجاج نے جلادسے کہا:اس کامنہ قبلہ سے پھیردے ۔ تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے پڑھا:
فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِؕ
ترجَمۂ کنزالایمان: توتم جدھرمنہ کرو اد ھر وجہُ اللہ (خداکی رحمت تمہاری طرف متوجہ)ہے۔