Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
59 - 107
سیِّدُنایحییٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے قتل کے درپے ہو گئی۔ چنانچہ اس نے بادشاہ کو مجبور کر کے قتل کی اجازت حاصل کرلی اور جب حضرت سیِّدُنایحییٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ’’مسجد جبرون‘‘ میں نماز پڑھ رہے تھے بحالت سجدہ ان کو قتل کرادیا اور ایک طشت میں ان کا سر مبارک اپنے سامنے منگوایا ۔ مگر کٹے ہوئے سر مبارک میں سے اس حالت میں بھی یہی آواز آتی رہی کہ ’’تو بغیر حلالہ کرائے بادشاہ کے لئے حلال نہیں ‘‘ اس عورت پرخدا عَزَّوَجَلَّکا عذاب نازل ہوگیا اوروہ زمین میں دھنس گئی۔  ۱؎(عجائب القرآن ص۲۹۲ والبدایہ والنہایہ،۱/۵۱۰ ملتقطاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(30)تابعی بزرگ کی شہادت 
	 حضرت سیدناسعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت ہی جلیل القدر تابعی ہیں بلکہ بعض محدثین نے آپ  کو خیرالتابعین(تمام تابعین میں بہترین )لکھا ہے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  بصرہ کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کو اس کی خلافِ شرع باتوں پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎  :’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ’’ بہار شریعت ‘‘جلد 2کے صفحہ نمبر 177 پر ہے ’’حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عوت مَدْخُولہ ہے (یعنی جس سے جماع کیا گیا ہو)تو طلاق کی عِدّت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاحِ صحیح کرے اور شوہر ِثانی اس عورت سے وطی بھی کرلے اب اس شوہر ِثانی کے طلاق یا موت کے بعد عِدّت پوری ہونے پر شوہرِ اوّل سے نکاح ہو سکتا ہے اور اگر عورت مَدْخُولہ نہیں ہے(یعنی اس سے جماع نہیں کیا گیا ) تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراََ دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے لئے عدت نہیں ۔‘‘