Brailvi Books

جیسی کرنی ویسی بھرنی
61 - 107
حجاج بولا: منہ کے بل زمین پر لٹا کر قتل کرڈالو۔ جب جلاد نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو منہ کے بل بحالتِ سجدہ لٹایا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ﴿۵۵﴾ 
ترجَمۂ کنزالایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اوراسی میں تمہیں پھرلے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔
	جب جلاد نے خنجر اٹھایا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے بلند آواز سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑ ھا اور یہ دعا مانگی کہ ’’یااللہعَزَّوَجَلَّ! میرے قتل کے بعد حجاج کو کسی مسلمان پر قابو نہ دے۔‘‘آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یہ دعا مقبول ہوگئی اور آپ کی شہادت کے بعد حجاج صرف پندرہ رات  زندہ رہا اور کسی مسلمان کو قتل نہ کرسکا۔ اس کے پیٹ میں کینسر ہوگیا تھا۔طبیب بدبودار گوشت کی بوٹی کو دھاگے میں باندھ کر اس کے حلق میں ڈالتا تھا اور وہ اس کو گھونٹ جاتا تھا۔ پھر اس کو نکالتا تھا تو وہ بوٹی خون میں لپٹی ہوئی نکلتی تھی اور ان پندرہ راتوں میں حجاج کبھی سو نہیں سکاکیونکہ آنکھ لگتے ہی وہ خواب دیکھتا کہ حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالٰی عنہ  اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ رہے ہیں ، بس آنکھ کھل جاتی ۔(آئینۂ عبرت،ص۳۶)
ظلم سے چھٹکارے کی دعا کیوں نہیں کی؟
	حضرت سیدنا سعید بن جبیررضی اللہ تعالٰی عنہ مستجابُ الدعوات بزرگ