جوانوں کو نصیحت
حُجَّۃُ الاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدغَزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی تحریر فرماتے ہیں :حضرتِ منصور بن عَمّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْغَفَّارنے ایک نوجَوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:اے جوان! تجھے تیری جوانی دھوکے میں نہ ڈالے، کتنے ہی جوان ایسے تھے جنہوں نے توبہ کو مؤخَّر اور اپنی اُمیدوں کو طویل کر دیا، موت کو بھلا دیا اور کہتے رہے کہ کل توبہ کر لیں گے، پرسوں توبہ کرلیں گے یہاں تک کہ اسی غفلت میں مَلَکُ المَوت آگئی اور وہ غافِل اندھیری قَبْر میں جا سوئے۔ انہیں نہ مال نے، نہ غلاموں نے، نہ اَولاد اور نہ ہی ماں باپ نے کوئی فائدہ دیا۔
یَوْمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾
(پ۱۹، الشعراء، آیت:۸۸،۸۹)
ترجمۂ کنزالایمان:جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے، مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔(مُکَاشَفَۃُ القُلُوب،ص۸۷)
روتی ہےشبنم کہ نیرنگِ جہاں کچھ بھی نہیں خندہ زن ہیں بلبلیں گُل کا نشاں کچھ بھی نہیں
چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے یہ تیرا حُسْن وشَباب اے نوجواں ! کچھ بھی نہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ ! اَسْتَغْفِرُ اللہ