Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
35 - 40
ایک وَسوَسہ اور اُس کا عِلاج
 وسوسہ:مذکورہ شِعر میں توبہ واِستِغفار کو سنّتِ اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلام کہا گیا ہے، حالانکہ توبہ تو گناہ پر کی جاتی ہے تو کیا مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ انبیاءِ کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلامسے بھی گناہ سرزد ہو سکتے ہیں ؟
علاجِ وسوسہ: نہیں ، ہرگز نہیں ،حضراتِ اَنبیاء ِ کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلام ہر خطا وگناہ سے معصوم ہیں اور معصوم کے یہ معنی ہیں کہ انکے لئے حفظِ الہٰی کا وعدہ ہوچکا جس کی وجہ سے ان سے گناہ ہونا شرعا ناممکن ہے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مرّوت کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تَعمُّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت معصوم ہیں۔( ملخص از ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل، صفْحہ38تا39)
وہ کمَالِ حُسْنِ حُضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دُور ہے یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں
(حدائقِ بخشِش)
	 انبیاءِ کِرام ومُرسلینِ عِظام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامسے جو توبہ واِستِغفار کے معمولات منقول ہیں وہ بطورِ عاجِزی اورتعلیمِ اُمّت کے لئے ہیں۔ اِسی لئے توبہ واِستِغفار کو مذکورہ شعر میں انبیاءِ کِرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی سنّت کہا گیا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد