Brailvi Books

جَوانی کیسے گزاریں؟
34 - 40
ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود محض رضائے الٰہی کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔‘‘ (حکایتیں اور نصیحتیں ، ص۷۵)
	  حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، جَنَابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم  کا فرمانِ دلنشین ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کو توبہ کرنے والے نوجوان سے زیادہ پسندیدہ کوئی نہیں۔‘‘ 
(کنز العمال،کتاب المواعظ۔۔الخ، الترغیب الاحاذی، الجزئ:۱۵، ۸/۳۳۲، حدیث:۴۳۱۰۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جوانی میں استغفار کیجئے	
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جوانی میں عبادت وتوبہ کی طرف مائل ہونے والا نوجوان کس قدَر سعادت مند ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے اپنا پیارا بندہ بنا لیتا ہے۔سچ ہے کہ 
دَرْ جَوانِی تَوْبَہ کَرْدَن شَیْوَۂِ پَیْغَمْبَرِی
وَقْتِ پِیْرِی گُرْگِ ظَالِمْ مِیْ شَوَدْ پَرْہیزْگَار
	یعنی جَوانی میں اِستِغفار کرنا اَنبیاء کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی سنّت ہے ،ورنہ بڑھاپے میں تَو ظالِم بھیڑیا بھی پرہیز گاری کا لَبادہ اَوڑھ لیتاہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد