اور اِسی عُمْر میں نفْس کے بے لگام اور منہ زور گھوڑے کو لگام دے دیجئے اور توبہ کرنے میں جلدی کیجئے کہ ناجانے کس وقْت پیغامِ اَجَل(یعنی موت کا پیغام) آجائے کیونکہ موت تو نہ جوانی کا لحاظ کرتی ہے نہ بچپن کی پرواہ۔
موت نہ دیکھے حسن و جوانی نہ یہ دیکھے بچپن خواہ ہو عمر اٹھارہ برسی یا ہو جاوے پچپن
لہٰذا خواہ عُمْر کا کوئی بھی حصّہ ہو، موت کو پیشِ نظَر رکھئے، توبہ کرنے میں جلدی کیجئے اور جوان تَو اِس پر زیادہ دھیان دے کہ جَوانی کی توبہ اللہ عَزَّوَجَلَّکو بَہُت پسند ہے چُنانچِہ
جوانی میں توبہ کی فضیلت
اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یُحِبُّ الشَّابَّ التَّائِبَیعنی جوانی میں توبہ کرنے والا شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب ہے۔‘‘
(کنز العُمّال، کتاب التوبۃ، الفصل الاول فی الخ، الجزء۴، ۳/۸۷،حدیث:۱۰۱۸۱)
جوانی میں توبہ کرنے والا محبوب کیوں؟
مُبَلِّغِ اِسلام حضرتِ علّامہ شیخ شُعَیْب حَرِیفِیْش رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اپنے بندے سے مَحَبَّت اُس وقْت ہوتی ہے جبکہ وہ جوانی میں توبہ کرنے والا ہو کیونکہ نوجوان تراورسرسبزٹہنی کی طرح ہوتاہے۔ جب وہ اپنی جوانی اور ہر طرف سے شہوات ولذات سے لطف اُٹھانے اوران کی رغبت پیدا ہونے کی عمرمیں توبہ کرتاہے، اوریہ ایسا وقت