جوانوں اور توبہ میں ٹال مَٹول کرنے والوں کو سمجھاتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں : ’’کیا تم غور نہیں کرتے کہ تم کب سے اپنے نفْس سے وعدہ کررہے ہو کہ کل عمَل کروں گا، کل کروں گا اور وہ ’’کل‘‘ ’’آج‘‘ میں بدل گیا ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جو’’ کل‘‘ آیا اور چلا گیا وہ گذشتہ ’’کل‘‘ میں تبدیل ہو گیا بلکہ اصْل بات یہ ہے کہ تم ’’آج‘‘ عمَل کرنے سے عاجِز ہو تو’’کل‘‘ زِیادہ عاجِز ہوگے (آج کا کام کل پر چھوڑنے اور توبہ واِطاعت میں تاخیر کرنے والا) اُس آدمی کی طرح ہے کہ جو درخت کو اُکھاڑنے سے جوانی میں عاجِز ہو اور اُسے دوسرے سال تک مؤخَّر کر دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا جائے گا درخت زیادہ مضبوط اور پختہ ہوتاجائے گا اور اُکھاڑنے والا کمزورتر ہوتاجائے گا پس جو اُسے جوانی میں نہ اُکھاڑ سکا وہ بُڑھاپے میں قطعاً نہ اُکھاڑ سکے گا ۔‘‘(اِحْیَاءالعُلُوم،۴/۷۲)
اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اُجالی ہے
(حدائقِ بخشِش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اِمام غَزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کا یہ مُبارَک فرمان کس قدَر فکْر اَنگیز ہے کہ جو شخْص جوانی میں اَحکامِ شرعِیَّہ واِطاعتِ اِلہِٰیَّہ کی بجا آوری میں کوتاہی برتتا ہے تَو اُس سے کیسے اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں ان غلطیوں کا مداوا کر سکے گاکیونکہ اُس وقت تَو جسْم و اَعضا ء کمزوری کا شکار ہو چکے ہوں گے لہٰذا جَوانی کو غنیمت جانئے